1. تمہید: کائنات کے تاریک اسرار اور قرآنی اشارے
کائنات کا وسیع و عریض پھیلاؤ اپنے اندر ان گنت راز چھپائے ہوئے ہے۔ انہی اسرار میں سے ایک سب سے پراسرار اور خوفناک خلائی مظہر “بلیک ہول” (Black Hole) ہے۔ اکیسویں صدی کے ماہرینِ فلکیات اور کیہانیات کے لیے بلیک ہولز کی دریافت سائنس کی دنیا کا سب سے بڑا معرکہ رہی ہے۔ یہ خلا میں موجود وہ مقام ہیں جہاں کششِ ثقل اس قدر شدید ہوتی ہے کہ روشنی جیسی تیز رفتار چیز بھی وہاں سے باہر نہیں نکل سکتی۔
مغربی سائنسدانوں نے بیسویں صدی کے وسط میں ائنسٹائن کے نظریہِ اضافیت (General Relativity) کی مدد سے بلیک ہولز کے وجود کی پیشن گوئی کی اور حال ہی میں ایونٹ ہورائزن ٹیلی سکوپ (EHT) کے ذریعے ان کی پہلی تصویر حاصل کی گئی۔ تاہم، ایک تحقیق پسند مسلمان کے لیے یہ بات انتہائی سبق آموز ہے کہ جس کائنات کی اس عجیب و غریب حقیقت تک انسان بڑی بڑی دوربینوں کی مدد سے پہنچا، اس کے اوصاف قرآن کریم میں صدیوں پہلے بیان کر دیے گئے تھے۔
خاص طور پر سورۃ النجم اور سورۃ التکویر میں بیان کردہ آیات ان خلائی حقائق کی طرف اتنے دلفریب اور دقیق انداز میں اشارہ کرتی ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اس مضمون میں ہم بلیک ہولز کی سائنسی حقیقت اور قرآن کریم کی آیات کا ایک جامع، علمی اور تحقیقی تقابل کریں گے۔
2. بلیک ہول کیا ہے؟ جدید فلکیات کا نقطہ نظر
سائنس کی دنیا میں بلیک ہول کسی عام خلا یا خالی جگہ کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا مردہ ستارہ ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں اپنے ہی وزن اور شدید کششِ ثقل کے زیرِ اثر سکڑ کر ایک انتہائی کثیف نقطے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
بلیک ہولز کی تین بنیادی سائنسی خصوصیات
فلکیات دان بلیک ہول کی شناخت کے لیے بنیادی طور پر تین خصوصیات بیان کرتے ہیں:
- غیر مرئی ہونا (Invisibility): یہ نظر نہیں آتے کیونکہ ان کی شدید کشش کی وجہ سے روشنی ان کے اندر قید ہو جاتی ہے اور باہر انعکاس نہیں پاتی۔
- حرکت اور سفر (Movement): یہ ساکن نہیں ہیں بلکہ کائنات میں انتہائی تیز رفتاری سے سفر کرتے ہیں اور اپنے راستے میں آنے والے مادّے کو نگلتے جاتے ہیں۔
- صفائی اور نگلنے کی صلاحیت (Sweeping & Vacuum): یہ خلا کے صفائی کنندہ (Vacuum Cleaners) کی طرح کام کرتے ہیں اور آس پاس کے تمام ستاروں اور گیسوں کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔
3. سورۃ النجم اور ستارے کے گرنے کا تذکرہ
سورۃ النجم کا آغاز ہی اللہ تعالی نے ایک ستارے کی قسم سے فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
لغوی و علمی تجزیہ
اس آیت مبارکہ میں استعمال ہونے والے لفظ “هَوَى” (Hawa) کے لغوی معنی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں:
لفظ “ہویٰ” کا مفہوم
عربی لغت کے مطابق “ہویٰ” کا مطلب ہے شدید بلندی سے نیچے گرنا، فنا ہونا، یا خلا میں غائب ہو جانا۔ جب ایک بڑا ستارہ اپنی تمام تر توانائی ختم کر بیٹھتا ہے تو اس کے اندرونی ایٹمی دھماکے رک جاتے ہیں اور وہ اپنی ہی کشش کے باعث اندر کی طرف ڈھ جاتا ہے (Gravitational Collapse)۔ سائنس کی زبان میں اسے ستارے کا گرنا یا Collapsing Star کہا جاتا ہے، جس کے بعد بلیک ہول وجود میں آتا ہے۔
4. سورۃ التکویر: بلیک ہولز کی اوصاف پر مبنی آیات
سورۃ النجم کے علاوہ سورۃ التکویر کی کچھ آیات بلیک ہول کی سائنسی تعریف پر بالکل ہوبہو پوری اترتی ہیں۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
الفاظ کی سائنسی تطبیق
قدیم مفسرین نے ان آیات سے مراد سیارے یا ستارے لیے، لیکن اگر جدید زبان میں ان عربی الفاظ کے لغوی معنی دیکھے جائیں تو یہ بلیک ہول کی تصویری کشی کرتے ہیں:
- الخُنَّس (Al-Khunnas): وہ جو خود کو چھپا لے، غیر مرئی ہو جائے یا نظر نہ آئے۔ بلیک ہول چونکہ روشنی خارج نہیں کرتا، اس لیے وہ بالکل نظر نہیں آتا (Invisibly Hidden)۔
- الجَوَارِ (Al-Jawaar): جو تیزی سے حرکت کرے اور چلے۔ بلیک ہول خلا میں مسلسل حرکت پذیر رہتے ہیں۔
- الكُنَّس (Al-Kunnas): یہ لفظ “کنیسہ” سے بنا ہے جس کا مطلب ہے جھاڑو دینا، صاف کرنا یا نگل جانا۔ بلیک ہول اپنے مدار کے راستے میں آنے والے تمام گیسی بادلوں اور ستاروں کو نگل کر خلا کے اس حصے کو صاف کر دیتا ہے۔
5. کیا بلیک ہول واقعی ایک “سوراخ” ہے؟
سائنسی اصطلاح “بلیک ہول” سے اکثر یہ مغالطہ پیدا ہوتا ہے کہ شاید خلا میں کوئی سوراخ یا گڑھا بنا ہوا ہے۔ جدید فزکس کے مطابق یہ کوئی خالی سوراخ نہیں ہے بلکہ ایک شدید کثیف مادی جرم (Massive Dense Object) ہے۔
قرآن کریم نے اسے “سوراخ” کہنے کے بجائے “الخنّس الجوار الکنّس” فرمایا، یعنی ایک ایسی متحرک خلائی طاقت جو نظر نہیں آتی اور ہر چیز کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ یہ طرزِ کلام جدید فزکس کے مفہوم سے بہت زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔
6. “النجم الثاقب” (سورۃ الطارق) اور بلیک ہولز یا پلسارز
قرآن کی ایک اور سورت سورۃ الطارق میں بھی ایک خاص قسم کے ستارے کا ذکر آتا ہے:
سائنسی تحقیق
سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کائنات میں کچھ مردہ ستارے ایسے ہیں جنہیں Pulsars (پلسارز) کہا جاتا ہے۔ یہ ستارے انتہائی تیز رفتاری سے گھومتے ہیں اور ان سے ایک مخصوص ریڈیو ویو نکلتی ہے جس کی آواز بالکل کٹھکھٹانے یا دستک دینے (Knocking) جیسی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ لفظ “الثاقب” کا مطلب سوراخ کرنے والا بھی ہوتا ہے، جو کہ نیوٹران سٹار یا بلیک ہول کی اس خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے جو خلا کی چادر کو موڑ دیتی ہے۔
7. قرآن کریم میں خلائی قسموں کی حکمت
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں ان عظیم الشان خلائی مظاہر اور ستاروں کی قسم کیوں کھاتا ہے؟
عربی بلاغت کے اصول کے مطابق جب خالق کسی چیز کی قسم اٹھاتا ہے تو اس کے دو بنیادی مقصد ہوتے ہیں:
- مخاطب کو اس چیز کی عظمت اور اس کے اندر چھپی نشانیوں کی طرف متوجہ کرنا۔
- اس نشانی کے بعد بیان کی جانے والی حقیقت (جوابِ قسم) کی سچائی کو ثابت کرنا۔
سورۃ النجم میں ستارے کے گرنے کی قسم کھا کر اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور وحی کی سچائی کو بیان فرمایا، یعنی جس طرح کائنات کے یہ قوانین اٹل ہیں اسی طرح اللہ کا نازل کردہ کلام بھی برحق ہے۔
8. اسلام اور جدید فلکیات کی باہمی ہم آہنگی
بلیک ہولز کی دریافت نے انسانی سائنسدانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہماری زمین اور نظامِ شمسی اس کائنات میں کتنے چھوٹے اور بے بس ہیں۔ وہی عجز اور انکساری قرآن کریم انسان کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے۔
قرآن سائنس کی کتاب نہیں بلکہ کائنات کے خالق کی طرف سے انسان کے نام خط ہے۔ جب سائنسدان اپنی جدید ترین دوربینوں سے کسی حقیقت کو تلاش کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا ایک ایک لفظ پہلے سے اس حقیقت کی گواہی دے رہا تھا۔
9. خلاصہ و نچوڑ (Conclusion)
سورۃ النجم، سورۃ التکویر اور سورۃ الطارق میں بیان کردہ ستاروں اور خلائی حقائق کا ذکر جدید فلکیات کے مسلمہ نظریات جیسے بگ بینگ، ستاروں کا انہدام (Gravitational Collapse) اور بلیک ہولز سے حیرت انگیز ہم آہنگی رکھتا ہے۔
1400 سال قبل جب انسان کے پاس فلکیات کا کوئی جدید علم موجود نہیں تھا، اس وقت اتنی باریکی اور بلاغت سے کائنات کے نادیدہ اور کثیف ستاروں کے اوصاف بیان کرنا ثابت کرتا ہے کہ قرآن مجید اس ذات کا کلام ہے جو تمام عوالم، کہکشاؤں اور بلیک ہولز کا خالق و مالک ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ حقائق ایمان میں اضافے اور کائنات میں تدبر کا ایک عظیم ذریعہ ہیں۔