google.com, pub-2216519951213863, DIRECT, f08c47fec0942fa0

تسخیرِ کائنات اور اسلامی تعلیمات: خلائی تحقیق پر قرآن کی رہنمائی

تسخیرِ کائنات اور اسلامی تعلیمات: خلائی تحقیق پر قرآن کی رہنمائی

Conquest of the Universe and Islamic Teachings: Quranic Guidance on Space Exploration

1. مقدمہ: انسان کا فلکیاتی سفر اور قرآنی دعوتِ فکر

تخلیقِ انسانی کے روز اول سے ہی انسان کے اندر اپنے اردگرد کے ماحول، زمین کی سمیات اور بالخصوص بلند و بالا آسمان پر چمکتے ہوئے ستاروں اور سیاروں کی حقیقت جاننے کی شدید تڑپ موجود رہی ہے۔ انسان کا آسمان کی گہرائیوں میں جھانکنا اور خلائی سرحدوں کو عبور کرنا کوئی جدید دور کا اتفاقی عمل نہیں ہے، بلکہ یہ اس فطری تجسس کا نتیجہ ہے جو خالقِ کائنات نے انسان کی ساخت میں رکھ دیا ہے۔

اسلام اور اس کا سرچشمہ ہدایت **قرآنِ مجید** انسان کو جمود کا شکار رہنے کی بجائے کائنات کے اسرار و رموز کو فاش کرنے اور کائیناتی وسعتوں میں تفکر و تدبر کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآن کریم کی درجنوں آیات انسان کو “تسخیرِ کائنات” یعنی کائنات کی تمام قوتوں کو انسان کی نفع رسانی کے لیے مسخر کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

اس مضمون میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ کس طرح قرآنِ حکیم نے انسان کو خلا، چاند، سورج اور ستارے تسخیر کرنے کی دعوت دی ہے اور جدید خلائی تحقیق (Space Exploration) میں قرآنی تصورات کی کیا اہمیت ہے۔

2. تسخیرِ کائنات کا قرآنی تصور: انسان بحیثیت نائبِ زمین

قرآنِ مجید کا بنیادی نقطہ نظر یہ ہے کہ کائنات کی ہر شے انسان کی خدمت کے لیے تخلیق کی گئی ہے اور انسان کو اس کائنات کے خزانوں کو دریافت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

“وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ”

“اور اس نے تمہارے لیے مسخر کر دیا جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کا سب اپنے پاس سے۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والی قوم کے لیے نشانیاں ہیں۔”

— سورة الجاثية (آیت 13)

اس آیت میں لفظ **”سَخَّرَ”** کا استعمال یہ ثابت کرتا ہے کہ چاند، سورج، سیارے اور خلا کی توانائیاں انسان کے لیے ناقابلِ تسخیر نہیں ہیں، بلکہ انسان کو وہ عقلی صلاحیت عطا کی گئی ہے جس کی مدد سے وہ خلا کے ان اسرار کو اپنے کنٹرول میں لا سکتا ہے۔

3. سلطان (علم و سائنس) کے بغیر خلا کو عبور کرنے کا چیلنج

قرآن مجید میں ایک مقام پر جنات اور انسانوں دونوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر وہ زمین و آسمان کی سرحدوں سے نکلنا چاہتے ہیں تو نکل کر دکھائیں، لیکن اس کے لیے ایک خاص صلاحیت کی ضرورت ہوگی۔

“يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ”

“اے گروہِ جن و انس! اگر تم میں اتنی طاقت ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سرحدوں سے باہر نکل سکو تو نکل بھاگو! تم نہیں نکل سکتے بجز ‘سلطان’ (توانائی، علم اور غلبے) کے۔”

— سورة الرحمن (آیت 33)

سائنسی منطق:

عربی زبان میں **”سُلْطَان”** سے مراد طاقت، اعلیٰ علم، اور تکنیکی غلبہ ہے۔ زمین کی کششِ ثقل (Gravitational Pull) اور کرہ ہوائی کو عبور کرنے کے لیے راکٹ سائنس، ایندھن کی کثیف صلاحیت اور جدید آلات کا ہونا ضروری ہے۔ قرآن نے 1400 سال پہلے واضح کر دیا تھا کہ خلا میں پرواز کے لیے کائناتی قوانین اور تکنیکی طاقت کو سمجھنا لازم ہوگا۔

4. کائنات کی وسعتیں اور بگ بینگ (Expanding Universe)

جدید علمِ فلکیات (Astrophysics) کا سب سے بڑا انکشاف یہ ہے کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے اور اس کی کوئی مستحکم سرحدیں نہیں ہیں۔ قرآنِ مجید نے اس حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا:

“وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ”

“اور آسمان کو ہم نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور بے شک ہم اس کو وسعت دیتے جا رہے ہیں۔”

— سورة الذاريات (آیت 47)

ایڈون ہبل (Edwin Hubble) نے 1929ء میں ٹیلی سکوپ کی مدد سے ثابت کیا کہ تمام گیلیکسیز ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں، جسے “Expanding Universe Model” کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں “لَمُوسِعُونَ” کا لفظ عین اسی پھیلاؤ کا احاطہ کرتا ہے۔

5. سیاروں اور ستاروں کا اپنے مدار میں تیرنا (Orbital Motion)

قدیم سائنس دانوں کا خیال تھا کہ زمین ساکن ہے یا تمام سیارے ایک جگہ جمے ہوئے ہیں۔ جبکہ قرآن نے واضح طور پر تمام فلکیاتی اجرامِ فلکی کی گردشی حرکت کا ذکر فرمایا:

“وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ”

“اور وہی ہے जिसने رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا۔ سب کے سب ایک ایک فلک (مدار) میں تیر رہے ہیں۔”

— سورة الأنبياء (آیت 33)

یہاں لفظ **”يَسْبَحُونَ”** (تیرنا) استعمال ہوا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جس طرح کوئی جسم پانی میں توازن کے ساتھ حرکت کرتا ہے، ٹھیک اسی طرح خلا میں ثقلی میدان (Gravitational Field) کے اندر ستارے اور سیارے بغیر کسی دھاگے کے اپنے اپنے مداروں پر گردش کر رہے ہیں۔

6. خلائی سفر کے دوران آکسیجن کی کمی کا قرآنی بیان

جب کوئی انسان فضا میں بلند ہوتا ہے تو بلندی کے ساتھ ساتھ فضائی دباؤ (Atmospheric Pressure) کم ہوتا جاتا ہے اور آکسیجن کی مقدار گھٹ جاتی ہے، جس سے سینے میں گھٹن محسوس ہوتی ہے۔

“فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ…”

“…اور جسے وہ گمراہ چھوڑنا چاہتا ہے اس کے سینے کو تنگ اور گھٹا ہوا کر دیتا ہے، جیسے وہ بڑی دشواری سے آسمان میں چڑھ رہا ہو…”

— سورة الأنعام (آیت 125)

یہ تشبیہ ثابت کرتی ہے کہ بلندی پر جانے پر سینے کی گھٹن کا علم نازل کرنے والی ہستی کائنات کے تمام فزیکل قوانین سے مکمل واقف ہے۔

7. مسلم سائنسدانوں کا تاریخ ساز فلکیاتی کردار

قرآن کریم کی انہی ترغیبات سے متاثر ہو کر تاریخِ اسلام میں مسلم سائنس دانوں نے علمِ فلکیات (Astronomy) میں لازوال خدمات انجام دیں:

  • البیرونی (Al-Biruni): اس نے گیارہویں صدی میں زمین کے رداس (Radius of Earth) کی ایسی درست پیمائش کی جو جدید سائنسی ریاضی کے ساتھ صرف چند کلومیٹر کے فرق سے ملتی ہے۔
  • الخوارزمی اور البتانی (Al-Battani): البتانی نے شمسی سال کی طوالت اور سیاروی مداروں کا دقیق حساب لگایا جو کوپرنیکس کے لیے بنیاد بنا۔
  • الاصطرلاب (Astrolabe): مسلمانوں نے سمندروں اور فضا میں راستوں کی سمت معلوم کرنے کے لیے جدید ترین نیویگیشن آلات ایجاد کیے۔

8. حاصلِ کلام: تسخیرِ خلا خدا کی معرفت کا اعلیٰ ذریعہ

خلاصہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید خلائی تحقیق، فضاؤں پر کمند ڈالنے اور تسخیرِ کائنات کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ اسے خالقِ کائنات کی عظمت کو پہچانے کا ایک بڑا ذریعہ قرار دیتا ہے۔

خلا میں جا کر چاند اور مریخ پر قدم رکھنا، وہاں کی دنیا کی تحقیق کرنا، یا خلا میں بنے خلائی اسٹیشنز قائم کرنا دراصل قرآنی احکامات اور تسخیر کے تصور کی عملی تعبیر ہے۔ بشرطیکہ یہ تحقیق انسانیت کی بھلائی، امن اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اعتراف کے لیے ہو، نہ کہ تکبر اور سرکشی کے لیے۔

Leave a Comment