google.com, pub-2216519951213863, DIRECT, f08c47fec0942fa0

امریکی ڈالر کا زوال؟ ڈی-ڈالرائزیشن اور برکس (BRICS) کا نیا معاشی نظام

امریکی ڈالر کا زوال؟ ڈی-ڈالرائزیشن اور برکس (BRICS) کا نیا معاشی نظام

De-Dollarization & BRICS New Economic System: Shift in Global Financial Dominance

1. مقدمہ: عالمی معاشی نظام میں ایک تاریخی موڑ

دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے اور 1944ء کے برٹن ووڈز معاہدے (Bretton Woods Agreement) کے بعد سے امریکی ڈالر عالمی معیشت کی ناقابلِ تسخیر بنیاد بنا رہا ہے۔ دنیا بھر میں خام تیل کی خریدو فروخت سے لے کر بین الاقوامی تجارت، مرکزی بینکوں کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور قرضوں کی ادائیگی تک، ہر جگہ ڈالر کا راج رہا ہے۔ اس بلا شرکتِ غیرے تسلط نے امریکہ کو نہ صرف بے پناہ معاشی فائدہ پہنچایا بلکہ اسے عالمی سیاست اور سفارت کاری میں ایک ایسا ہتھکنار فراہم کیا جس کے ذریعے وہ کسی بھی ملک کی معیشت کو راتوں رات مفلوج کرنے کی صلاحیت حاصل کر گیا۔

تاہم، حالیہ چند سالوں میں عالمی سطح پر ایک خفگی اور تحفظات کی لہر اٹھی ہے۔ دنیا کی بڑی اور ابھرتی ہوئی معیشتیں اب یہ محسوس کر رہی ہیں کہ امریکی ڈالر پر حد سے زیادہ انحصار ان کی اپنی معاشی خودمختاری کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکا ہے۔ اس احساس نے **ڈی-ڈالرائزیشن (De-Dollarization)** کی عالمی تحریک کو جنم دیا ہے۔ اس تحریک کا ہدف ڈالر کے تسلط کو ختم کرنا اور ایک ملٹی کرنسی یا متبادل مالیاتی نظام کا قیام ہے۔

اس ابھرتے ہوئے نئے عالمی مالیاتی نظام کی قیادت **برکس (BRICS)** بلاک کر رہا ہے۔ برکس جس میں برازیل، روس، ہند، چین اور جنوبی افریقہ کے علاوہ اب نئے اراکین (جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، مصر اور ایتھوپیا) شامل ہو چکے ہیں، دنیا کی کل آبادی کے 45 فیصد اور عالمی جی ڈی پی (PPP) کے 36 فیصد سے زیادہ حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم ڈالر کی عالمی بالادستی کی تاریخ، ڈی-ڈالرائزیشن کے محرکات، برکس کے متبادل مالیاتی نظام اور دنیا کے مستقبل پر اس کے اثرات کا جامع جائزہ لیں گے۔

2. ڈالر کی بالادستی کی تاریخ: برٹن ووڈز سے پیٹرو ڈالر تک

امریکی ڈالر کا عالمی ہژمونی (تسلط) دو اہم تاریخی ستونوں پر کھڑا ہوا تھا۔ پہلا ستون 1944ء کا برٹن ووڈز کانفرنس کا معاہدہ تھا، جس کے تحت عالمی کرنسیوں کو امریکی ڈالر سے منسلک کیا گیا اور ڈالر کو سونے کی ایک مقررہ مقدار ($35 فی اونس) کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ جب 1971ء میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے سونا اور ڈالر کا باہمی ربط یکطرفہ طور پر ختم کر دیا (جسے ‘نکسن شاک’ کہا جاتا ہے)، تو ڈالر کی ساکھ کو شدید خطرہ لاحق ہوا۔

ڈالر کو بچانے کے لیے امریکہ نے 1970ء کی دہائی میں سعودی عرب اور دیگر اوپیک (OPEC) ممالک کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ کیا، جسے **پیٹرو ڈالر سسٹم (Petrodollar System)** کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت طے پایا کہ دنیا کا تمام خام تیل صرف اور صرف امریکی ڈالر میں خریدا اور بیچا جائے گا۔ بدلے میں امریکہ نے خلیجی ممالک کو فوجی تحفظ فراہم کیا۔

امریکی ڈالر کے غیر معمولی فوائد (Exorbitant Privilege):

  • لامحدود طلب: دنیا کے ہر ملک کو تیل اور بین الاقوامی سامان خریدنے کے لیے ڈالر کی ضرورت پڑتی تھی، جس سے ڈالر کی مانگ کبھی کم نہیں ہوئی۔
  • خسارے کی نوٹ چھپائی: امریکہ اپنے تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے آسانی سے مزید ڈالر پرنٹ کر سکتا تھا، کیونکہ باقی دنیا ان ڈالروں کو بحفاظت اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں رکھتی تھی۔
  • مالیاتی ہتھیار (Sanctions Weaponization): امریکہ کسی بھی مخالف ملک کو سوئیفٹ (SWIFT) بینکنگ نیٹ ورک سے باہر نکال کر یا اس کے ڈالر ذخائر منجمد کر کے اسے معاشی طور پر تنہا کر سکتا تھا۔

3. ڈی-ڈالرائزیشن (De-Dollarization) کیا ہے اور یہ کیوں ضروری ہوا؟

ڈی-ڈالرائزیشن سے مراد عالمی تجارت، زرمبادلہ کے ذخائر، اور بین الاقوامی مالیاتی لین دین میں امریکی ڈالر کے استعمال کو تدریجی طور پر کم کرنا یا ختم کرنا ہے۔ اس رجحان میں حالیہ سالوں کے دوران تیز ترین اضافہ ہوا ہے، جس کے بنیادی اسباب درج ذیل ہیں:

  • مالیاتی پابندیوں کا ہتھیار بنایا جانا: 2022ء میں روس-یوکرین تنازع کے بعد امریکہ اور مغربی ممالک نے روس کے تقریباً 300 ارب ڈالر سے زائد کے زرمبادلہ کے ذخائر منجمد کر دیے اور روسی بینکوں کو سوئیفٹ سسٹم سے منقطع کر دیا۔ اس اقدام نے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کو یہ باور کرایا کہ امریکی ڈالر میں رقم رکھنا اب خطرے سے خالی نہیں ہے۔
  • امریکی قومی قرضہ اور افراطِ زر: امریکہ کا قومی قرضہ 34 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ فیڈرل ریزرو کی جانب سے نوٹ چھاپنے کی پالیسیوں اور شرحِ سود میں مسلسل ردوبدل نے ترقی پذیر ممالک کی کرنسیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
  • عالمی اقتصادی توازن کی منتقلی: گزشتہ تین دہائیوں میں چین، بھارت اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کا عالمی پیداوا میں حصہ دوگنا ہو چکا ہے جبکہ امریکہ اور یورپ کا نسبتی حصہ کم ہوا ہے۔

4. برکس (BRICS) کا بڑھتا ہوا حجم اور معاشی وزن

برکس صرف ایک سیاسی گروپ نہیں رہا بلکہ یہ ایک نیا اقتصادی قطب بن چکا ہے۔ برکس پلس (BRICS+) کی توسع کے بعد اس کا معاشی گھیراؤ جی-7 (G7) ممالک کے مقابلے میں طاقتور ہو چکا ہے۔

“خریداری کی طاقت کے توازن (PPP) کے لحاظ سے برکس ممالک اب عالمی معیشت کے 36 فیصد سے زائد حصے پر قابض ہیں، جبکہ جی-7 ممالک کا حصہ گھٹ کر 30 فیصد سے کم رہ گیا ہے۔ دنیا کے 40 فیصد سے زائد خام تیل کی پیداوار اب برکس کے رکن ممالک کے کنٹرول میں ہے۔”

— بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اکنامک آؤٹ لک Report

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران جیسے تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی برکس میں شمولیت نے پیٹرو ڈالر سسٹم کی 50 سالہ بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب یہ ممالک چین کو ین ، اور بھارت کو روپے میں تیل فروخت کر رہے ہیں۔

5. برکس کا نیا مالیاتی نظام: BRICS Pay، مقامی کرنسی اور کرپٹو ٹیکنالوجی

برکس ممالک ڈالر پر انحصار ختم کرنے کے لیے ایک جامع اور کثیر المراجع متبادل معاشی بنیادی ڈھانچہ قائم کر رہے ہیں:

برکس کے بنیادی مالیاتی اقدامات:

  • مقامی کرنسیوں میں تجارت (Local Currency Settlement): چین اور روس کی باہمی تجارت کا 90 فیصد سے زیادہ اب ربل اور یوآن میں ہو رہا ہے۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات نے روپے اور درہم میں تجارتی تصفیہ شروع کر دیا ہے۔
  • برکس پے (BRICS Pay): بلاک چین اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مبنی ایک نیا بین الاقوامی ادائیگی کا نظام تیار کیا جا رہا ہے، جو مغربی کنٹرول والے کریڈٹ کارڈز اور ادائیگی کے نیٹ ورکس کا متبادل ثابت ہوگا۔
  • مشترکہ برکس کرنسی یا یونٹ: ایک ایسی کرنسی کا تصور بھی زیرِ غور ہے جو سونے اور برکس ممالک کی قدرتی اشیاء (کموڈٹیز) کے گلدستے پر مبنی ہوگی تاکہ اس میں افراطِ زر کا خطرہ کم سے کم ہو۔

6. سوئیفٹ (SWIFT) کا متبادل اور غیر ملکی زرمبادلہ کے نئے ماڈلز

عالمی سطح پر معاشی بائیکاٹ کے خطرے سے بچنے کے لیے چین نے اپنا نیا مالیاتی میسجنگ سسٹم **CIPS (Cross-Border Interbank Payment System)** اور روس نے **SPFS** قائم کیا ہے۔ ان سسٹمز کا مقصد مغربی مالیاتی پابندیوں کے اثرات سے محفوظ رہ کر دوسرے ممالک کے ساتھ براہِ راست لین دین جاری رکھنا ہے۔

اس کے علاوہ، دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں امریکی ڈالر اور امریکی حکومت کے بانڈز کی مقدار کو کم کر کے **سونا (Gold)** خریدنا شروع کر دیا ہے۔ 2023ء اور 2024ء میں مرکزی بینکوں کی طرف سے کی جانے والی سونے کی ریکارڈ خریداری اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب کاغذی ڈالر سے ہٹ کر حقیقی اثاثوں کی طرف لوٹ رہی ہے۔

7. ڈالر کے زوال کے مغربی و عالمی معیشت پر اثرات

اگر ڈی-ڈالرائزیشن کی یہ رفتار جاری رہتی ہے تو اس کے امریکی معیشت اور عالمی نظام پر درج ذیل گہرے اثرات مرتب ہوں گے:

  • امریکہ میں شدید افراطِ زر: اگر دنیا بھر کے مرکزی بینک اپنے ڈالر زرمبادلہ کے ذخائر کے طور پر رکھنا چھوڑ دیں گے تو کھربوں ڈالر واپس امریکہ کا رخ کریں گے، جس سے امریکی معیشت میں افراطِ زر کا ایک بڑا طوفان آ سکتا ہے۔
  • قرض لینے کی لاگت میں اضافہ: امریکہ اپنے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے جن کم شرحِ سود پر غیر ملکی سرمایہ کاروں سے قرض لیتا تھا، وہ اب ممکن نہیں رہے گا اور امریکہ کے لیے اپنا قرض سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
  • کثیر القطبی مالیاتی دنیا: دنیا اب کسی ایک واحد کرنسی کے تسلط میں رہنے کے بجائے متعدد علاقائی کرنسیوں (یوآن، یورو، ربل، روپیہ) کے باہمی توازن پر چلے گی۔

8. حاصلِ کلام: کیا ڈالر کا خاتمہ ممکن ہے یا یہ محض ایک طویل عمل ہے؟

یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ امریکی ڈالر راتوں رات یا اگلے کچھ سالوں میں مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ امریکی مالیاتی منڈیوں کا حجم، شفافیت اور مائع پذیری (Liquidity) اب بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

تاہم، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ **ڈالر کی یکطرفہ بالادستی کا دور اب ختم ہو چکا ہے**۔ ڈی-ڈالرائزیشن کا عمل جاری ہے اور برکس کا نیا معاشی نظام دنیا کو ایک ایسا متبادل فراہم کر رہا ہے جہاں اب کوئی ایک ملک عالمی معیشت کو بلیک میل نہیں کر سکتا۔ مستقبل کی دنیا کثیر القطبیت اور کرنسیوں کے تنوع پر مبنی ہوگی، اور یہی نیا معاشی نظام اب تاریخ کا دھارا بن چکا ہے۔

Leave a Comment