1. تمہید: بابا گرو نانک دیو جی کی شخصیت اور تاریخی پس منظر
دنیا کی مذہبی تاریخ میں ایسے روحانی پیشوا اور اصلاح کار شاذ و نادر ہی ملتے ہیں جنہوں نے مذہبی تعصبات، طبقاتی تقسیم اور انسانوں کے درمیان تفریق کی دیواروں کو ڈھا کر محض ایک سچی انسانیت کا درس دیا ہو۔ سکھ مت کے بانی **بابا گرو نانک دیو جی** (1469ء تا 1539ء) کی شخصیت اسی سلسلے کی ایک تابندہ مثال ہے۔
بابا گرو نانک کا دور برصغیر کی تاریخ کا ایک انتہائی حساس دور تھا۔ ایک طرف ہندو معاشرہ ذات پات کی سخت ترین تفریق، چھوت چھات اور سخت مذہبی رسومات میں جکڑا ہوا تھا، تو دوسری طرف سیاسی و مذہبی کشمکش جاری تھی۔ ایسے تاریک حالات میں بابا گرو نانک نے محبت، بین المذاہب ہم آہنگی، اور یکتائے خداوندی کا وہ نور پھیلایا جس نے نہ صرف پنجاب بلکہ پورے برصغیر اور ایشیا کے ایک بڑے حصے میں امن و آشتی کا پیغام عام کیا۔
یہ تفصیلی مضمون بابا گرو نانک کی بنیادی تعلیمات، ان کے انسانیت دوست فلسفے، بین المذاہب ہم آہنگی کی کوششوں، اور جدید دور میں ان کے پیغام کی اہمیت کا ایک جامع اور تحقیقی جائزہ پیش کرتا ہے۔
2. “نا کوئی ہندو، نا کوئی مسلماً”: بین المذاہب ہم آہنگی کا بنیادی نعرہ
روایات کے مطابق جب بابا گرو نانک کو سلطان پور لودھی میں ندی (بئیں ندی) پر روحانی معرفت حاصل ہوئی تو اس کے بعد ان کی زبان سے نکلنے والا پہلا تاریخی جملہ تھا:
“نا کوئی ہندو، نا کوئی مسلماً”
(یعنی خدا کی نظر میں نہ کوئی صرف ہندو ہے اور نہ صرف مسلمان، بلکہ تمام انسان ایک ہی خالق کی مخلوق ہیں۔)
یہ جملہ محض ایک نعرہ نہیں تھا بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک عالمی چارٹر تھا۔ بابا گرو نانک نے یہ واضح کیا کہ مذاہب کے نام پر انسانوں کو تقسیم کرنا، ایک دوسرے سے نفرت کرنا، اور مذہبی اجارہ داری قائم کرنا خدا کی منشا کے خلاف ہے۔ انہوں نے لوگوں کو ظاہری مذہبی پہناوے اور رسومات سے نکل کر باطنی پاکیزگی اور سچے اخلاق کی طرف بلایا۔
3. بابا گرو نانک کی تعلیمات کے 3 بنیادی ستون
سکھ فلسفے اور گرو نانک جی کی مکمل تعلیمات کا خلاصہ درج ذیل تین بنیادی اصولوں پر قائم ہے، جو کسی بھی معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں:
1. نام جپنا (God Consciousness)
ہر وقت ایک سچے خدا (اک اونکار) کو یاد رکھنا، اس کی صفات کا مراقبہ کرنا، اور اپنی زندگی کو خدا کی یاد سے معطر رکھنا۔ گرو نانک کے نزدیک خدا کسی ایک قوم، مذہب یا علاقے کا نہیں بلکہ تمام کائنات کا مشترکہ پروردگار ہے۔
2. کرت کرنا (Honest Living)
اپنے ہاتھوں سے محنت کر کے حلال اور پاکیزہ روزی کمانا۔ انہوں نے گداگری، کاہلی، اور دوسروں کا حق مارنے کی سخت مذمت کی اور عملی زندگی میں محنت مشقت کو عبادت کا درجہ دیا۔
3. ونڈ چھکنا (Sharing with Others)
اپنی محنت کی کمائی کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھنا بلکہ اس میں سے محتاجوں، غریبوں اور مسافروں کا حصہ نکالنا اور باہم بانٹ کر کھانا۔ یہی اصول بعد میں “لنگر” کے باقاعدہ نظام کی بنیاد بنا۔
4. “ایک اونکار”: توحید اور وحدتِ الٰہی کا پیغام
بابا گرو نانک کی تعلیمات کا سب سے پہلا اور اہم درس “ایک اونکار” (خدا ایک ہے) ہے۔ سکھ مت کی مقدس کتاب **جپ جی صاحب** کا آغاز ہی اس مول منتر (بنیادی کلام) سے ہوتا ہے:
مول منتر کا مفہوم: “خدا ایک ہے، اس کا نام حق (سچ) ہے، وہ خالقِ کائنات ہے، وہ خوف اور بغض سے پاک ہے، اس پر موت یا زوال نہیں، وہ خود سے قائم ہے اور وہ سچے گرو کے فضل سے حاصل ہوتا ہے۔”
انہوں نے بتا دیا کہ جب تمام کائنات کا خالق و مالک ایک ہی ہے تو اس کی بنائی ہوئی مخلوق میں تفریق اور نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔ اس وحدانیت کے تصور نے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک نقطے پر جمع کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
5. بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے عملی اقدامات
بابا گرو نانک نے صرف باتیں نہیں کیں بلکہ اپنے عمل سے بین المذاہب ہم آہنگی کی عظیم مثالیں قائم کیں:
1. سیاحتیں (اداسیاں)
انہوں نے دنیا کے چاروں اطراف میں طویل سفر کیے جنہیں “اداسیاں” کہا جاتا ہے۔ ان سفروں کے دوران انہوں نے ہندؤوں کے مقدس مقامات (بنا رس، ہردوار) سے لے کر مسلمانوں کے مقدس مراکز (مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، بغداد) تک کا دورہ کیا۔ انہوں نے ہر مذہب کے علما، صوفیا، اور سادھوؤں سے گفتگو کی اور ان کے اچھے خیالات کو سراہا۔
2. بھائی مردانہ کی دیرینہ صحبت
گرو نانک جی کے سب سے قریب اور مستقل رفیق **بھائی مردانہ** تھے، جو پیدائشی طور پر ایک مسلمان میراثی تھے۔ بھائی مردانہ رباب بجاتے تھے اور گرو نانک جی اشعار (شبد) گاتے تھے۔ ایک ہندو روحانی پیشوا اور ایک مسلمان فنکار کی یہ دائمی رفقت بین المذاہب رواداری کی منفرد تاریخی مثال ہے۔
3. لنگر کا نظام اور مساوات
انہوں نے **”سنگت اور پنگت”** کا نظام متعارف کرایا۔ سنگت سے مراد بلا تفریقِ مذہب و ملت لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا اور پنگت سے مراد ایک ہی قطار میں زمین پر بیٹھ کر کھانا کھانا۔ اس نظام نے بادشاہ اور فقیر، ہندو اور مسلمان، اور اونچی و نیچی ذات کے فرق کو ختم کر دیا۔
6. معاشرتی اصلاحات اور حقوقِ نسواں
بابا گرو نانک ایک عظیم مذہبی رہبر کے ساتھ ساتھ ایک بیدار مغز معاشرتی اصلاح کار بھی تھے۔ انہوں نے اس دور کی خرابیوں پر کھل کر تنقید کی:
- ذات پات کا خاتمہ: انہوں نے برہمنوازم کے بنائے ہوئے اونچ نیچ کے نظام کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ انسان کا مرتب ہ اس کی ذات سے نہیں بلکہ اس کے اعمال سے طے ہوتا ہے۔
- عورت کا مقام و احترام: اس دور میں عورت کو کمتر اور تمام برائیوں کی جڑ سمجھا جاتا تھا۔ گرو نانک نے عورت کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے فرمایا: “اس عورت کو کمتر کیسے کہا جا سکتا ہے جو بادشاہوں اور پیغمبروں کو جنم دیتی ہے؟”
- ظلم کے خلاف آواز: جب ظہیر الدین بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا اور عام لوگوں پر مظالم ہوئے، تو گرو نانک نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنی شاعری (بابر وانی) میں اس کا سخت شکوہ کیا۔
7. جدول: بابا گرو نانک کا اصلاحی ماڈل بمقابلہ روایتی متعصب معاشرہ
| پہلو / موضوع | روایتی 15ویں صدی کا معاشرہ | بابا گرو نانک کی تعلیمات |
|---|---|---|
| معاشرتی ساخت | ذات پات، چھوت چھات اور شدید طبقہ بندی۔ | مطلق مساوات، تمام انسان ایک ہی نور سے پیدا ہوئے۔ |
| مذہبی نقطہ نظر | تنگ نظری، تعصب اور دوسرے مذاہب کی نفی۔ | بین المذاہب احترام، سچائی اور رواداری۔ |
| عبادت کا طریقہ | پیچیدہ رسومات، چِلے، اور تارکِ دنیا ہونا۔ | عملی زندگی، محنت مزدوری اور خدا کی یاد۔ |
| عورت کی حیثیت | مظلوم، محروم اور مذہبی رسومات سے دور۔ | برابر کی شریک، قابلِ احترام اور عظیم درجہ۔ |
8. جدید دور میں گرو نانک کے پیغام کی اہمیت اور کرتارپور راہداری
آج کی 21ویں صدی میں جہاں دنیا مذہبی شدت پسندی، نسلی تعصبات، اور انتہا پسندی کا شکار ہے، بابا گرو نانک کا پیغامِ امن ایک تریاق کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان **کرتارپور راہداری (Kartarpur Corridor)** کا قیام اسی امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کی ایک زبردست عملی تجسیم ہے۔
کرتارپور وہ مقدس مقام ہے جہاں بابا گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال ایک عام کسان کی طرح کھیتی باڑی کرتے ہوئے اور انسانیت کو امن کا درس دیتے ہوئے گزارے۔ آج کرتارپور راہداری دنیا بھر کے لیے مذہبی رواداری اور سرحدوں سے بالاتر انسانی محبت کی علامتی راہداری بن چکی ہے۔
9. خلاصہ (Conclusion)
بابا گرو نانک دیو جی کی حیاتِ طیبہ اور تعلیمات انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ حقیقی مذہب کا تعلق ظاہری رسومات یا لبادے سے نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی، خلقِ خدا سے محبت، اور مظلوم کی حمایت سے ہے۔
اگر آج کا انسان اور مختلف مذاہب کے پیروکار گرو نانک کے بتائے ہوئے اصولوں—وحدتِ الٰہی، انسانی مساوات، محنتِ حلال، اور خدمتِ خلق—کو اپنا لیں، تو دنیا سے نفرت، جنگ و جدل، اور مذہبی کشمکش کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکتا ہے اور ایک پرامن معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔