مولانا الیاس قادری کا عظیم علمی، ادارہ جاتی اور عالمی فلاحی ترکہ
تاریخ کا دھارا اس بات کا گواہ ہے کہ وہی شخصیات صدیوں تک زندہ رہتی ہیں جو اپنے بعد ایسا لائحۂ عمل، ادارے اور فکری ترکہ چھوڑ جاتی ہیں جس سے ان کے جانے کے بعد بھی انسانیت مستفید ہوتی رہے۔ حضرت علامہ مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ نے اپنی چار دہائیوں پر محیط انتھک محنت، علمی بصیرت اور انتظامی صلاحیتوں کے نتیجے میں ایسا وسیع نظام قائم کر دیا ہے جو دنیا بھر میں دینِ اسلام کی اشاعت اور انسان دوست خدمات میں مشغول ہے۔
مولانا الیاس قادری نے محض بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے دیرپا ادارے تشکیل دیے جن کا نیٹ ورک آج براعظم ایشیا، یورپ، امریکہ، افریقہ اور آسٹریلیا تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے اس عظیم ترکے کا تفصیل سے مطالعہ درج ذیل شعبہ جات میں کیا جا سکتا ہے:
1. تصنیفی و علمی ترکہ
مولانا الیاس قادری ایک ممتاز مصنف اور شاعر بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی تصانیف کے ذریعے عام فہم انداز میں دین کا علم لوگوں تک پہنچایا۔ آپ کی تصانیف میں پیچیدہ علمی بحثوں کے بجائے سادگی، تاثیر، اور عملی رہنمائی کو ترجیح دی گئی ہے۔
- فیضانِ سنت: یہ آپ کا شاہکار علمی اور اخلاقی مجموعہ ہے۔ یہ کتاب فقہ، آدابِ زندگی، سنن و مستحبات، تزکیۂ نفس اور عبرت انگیز حکایات پر مشتمل ہے۔ اس کے مختلف حصوں کا دنیا کی درجنوں زبانوں (انگریزی، ہندی، گجراتی، سندھی، بنگلہ، اور عربی) میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
- رسائلِ عطاریہ: مولانا الیاس قادری نے مختلف موضوعات مثلاً غیبت، جھوٹ، تکبر، نماز، روزے، حج، اور زکوٰۃ پر بیسیوں چھوٹے رسالے لکھے ہیں۔ یہ رسالے انتہائی ارزاں قیمت پر یا مفت تقسیم کیے جاتے ہیں تاکہ عام آدمی تک دین کا بنیادی علم پہنچ سکے۔
- نعتیہ دیوان (وسائلِ بخشش): آپ ایک باکمال شاعر بھی ہیں اور آپ کا نعتیہ مجموعہ “وسائلِ بخشش” کے نام سے شائع ہو چکا ہے جس کے اشعار میں عشقِ رسول ﷺ اور عاجزی کی زبردست چاشنی پائی جاتی ہے۔
2. تعلیمی و آموزشی شبکات (دینی تعلیم کا انقلاب)
تعلیم کے شعبے میں مولانا الیاس قادری نے جو ادارے قائم کیے ہیں، ان کی مثال جدید دور میں ملنا مشکل ہے۔ انہوں نے مفت اور معیاری دینی تعلیم کو گلی گلی تک پہنچایا:
3. میڈیا کا مثبت استعمال: مدنی چینل کا تاریخی قیام (2008ء)
جب الیکٹرانک میڈیا پر فحاشی، عریانی اور تجارتی مفادات کا غلبہ تھا، مولانا الیاس قادری نے میڈیا کو اصلاحِ امت کے لیے استعمال کرنے کا جرات مندانہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے 2008ء میں **”مدنی چینل”** کی بنیاد رکھی۔
مدنی چینل کی سب سے بڑی اور حیرت انگیز خصوصیت یہ ہے کہ یہ دنیا کا ایسا منفرد اسلامی نیٹ ورک ہے جو ہر قسم کے کمرشل اشتہارات (Advertisements) اور تجارتی آمدنی سے بالکل پاک ہے۔ اس پر چوبیس گھنٹے اردو، انگریزی، بنگلہ اور دیگر زبانوں میں قرآن، حدیث، سیرت، فقہ، اور اخلاقیات کے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ اس چینل نے لاکھوں غیر مسلموں کو بھی اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔
4. انسان دوست اور عالمی فلاحی ترکہ (FGRF)
مولانا الیاس قادری کا نظریہ صرف روایتی عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسانوں کے دکھ درد کا مداوا کرنا بھی ان کا مشن ہے۔ اس مقصد کے لیے **Faizan Global Relief Foundation (FGRF)** نامی بین الاقوامی فلاحی ادارہ قائم کیا گیا۔
- قدرتی آفات میں امداد: پاکستان میں 2005ء کا زلزلہ ہو، 2010ء اور 2022ء کے تباہ کن سیلاب ہوں یا بین الاقوامی سطح پر کوئی آفت، FGRF نے ہمیشہ آگے بڑھ کر اربوں روپے کے راشن، طبی کیمپ، اور گھروں کی تعمیر کے منصوبے فراہم کیے۔
- ماحولیاتی تحفظ (شجرکاری مہم): گلوبل وارمنگ کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مولانا الیاس قادری کی ہدایت پر ہر سال لاکھوں درخت لگانے کی عالمی مہم چلائی جاتی ہے۔
- معذور افراد کی بحالی: خصوصی افراد (Special Persons) کی تعلیم و تربیت اور انہیں خود کفیل بنانے کے لیے الگ شعبہ جات قائم کیے گئے ہیں۔
5. المکتبۃ العلمیۃ اور مکتبۃ المدینہ
اسلامی بکس کی اشاعت کے لیے آپ نے “مکتبۃ المدینہ” قائم کیا، جس کے ذریعے لاکھوں اسلامی کتب، تفاسیر اور احادیث کے مجموعے شائع کر کے انتہائی مناسب قیمت پر یا مفت تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اس ادارے کا ہدف علمِ دین کو ہر عام و خاص تک پہنچانا ہے۔
نتیجۃً، حضرت علامہ مولانا الیاس قادری نے ایک ایسا مضبوط، منظم اور خود کار سسٹم ترتیب دے دیا ہے کہ اگر وہ ظاہری طور پر ہم میں نہ بھی رہیں، تب بھی ان کا قائم کردہ یہ تبلیغی، علمی، اور انسانی خدمت کا قافلہ ان شاء اللہ قیامت تک یونہی رواں دواں رہے گا۔ یہ ان کا ایسا صدقۂ جاریہ ہے جس کی نظیر موجودہ دور میں نایاب ہے۔