سمندروں کا نہ ملنا: سورۃ الرحمن اور جدید سائنس کا حیران کن انکشاف

سمندروں کا نہ ملنا: سورۃ الرحمن اور جدید سائنس کا حیران کن انکشاف

1. تمہید: سمندروں کے پراسرار حقائق اور قرآنی معجزات

زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، اور یہ سمندر اتنے وسیع و عریض اور گہرے ہیں کہ انسانی عقل ان کی تہہ تک پہنچنے میں آج بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے۔ صدیوں تک انسان سمندر کی سطح پر سفر کرتا رہا، لیکن اس کے پانیوں کی اندرونی خصوصیات، کثافت اور درجہ حرارت کی نمو سے بالکل ناواقف تھا۔ جدید سائنس نے خاص طور پر پچھلی دو صدیوں میں سمندری علوم (Oceanography) کی بدولت ایسے حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں جنہوں نے سائنسدانوں کو ششدر کر دیا ہے۔

ان سائنسی انکشافات میں سے سب سے معجزانہ حقیقت دو ایسے سمندروں کا ملنا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ باہم بہتے ہیں لیکن ان کا پانی ایک دوسرے میں مخلوط نہیں ہوتا۔ جہاں ایک طرف جدید ترین آلات، سیٹلائٹ امیجری اور کیمیائی لیبارٹریوں کی مدد سے اس کا سائنسی سبب تلاش کیا گیا، وہی دوسری طرف 1400 سال قبل صحرائے عرب میں نازل ہونے والے قرآن کریم کی سورۃ الرحمن میں اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان کر دیا گیا تھا۔

قرآن کریم کی ان آیات نے نہ صرف اس دور کے عربوں کو ورطہ حیرت میں ڈالا بلکہ آج کے جدید سائنس دانوں کو بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ کلام کسی انسانی دماغ کی اختراع نہیں ہو سکتا۔ اس مضمون میں ہم سورۃ الرحمن کی ان آیات اور جدید بحری سائنس کی دریافتوں کا تفصیلی اور تحقیقی جائزہ لیں گے۔

2. سورۃ الرحمن کی آیات کا نصوصی و لفظی جائزہ

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اپنی رحمتوں اور قدرت کی نشانیوں کو شمار کرواتے ہوئے سمندروں کے اس تعجب خیز مظہرے کا ذکر فرمایا ہے۔ سورۃ الرحمن میں ارشاد باری تعالی ہے:

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ﴿١٩﴾ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ ﴿٢٠﴾ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ﴿٢١﴾
“اس نے دو سمندروں کو اس طرح روانہ کیا کہ وہ باہم ملتے ہیں۔ ان کے درمیان ایک آڑ (پردہ) ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھتے (تجاوز نہیں کرتے)۔ پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟” (سورۃ الرحمن: 19-21)

عربی گرامر اور لغوی تفہیم

آیات کریمہ کے الفاظ کا گہرا علمی تجزیہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

لفظ مرج (Maraja) کا مفہوم

عربی لغت کے مطابق “مرج” کا مطلب ہے دو چیزوں کو اس طرح آزادانہ چھوڑ دینا کہ وہ اپس میں ملیں یا ایک دوسرے کے ساتھ بہیں۔ یعنی دو پانیوں کو ایک دوسرے کی سمت میں بہا دیا گیا ہے۔

لفظ برزخ (Barzakh) کا مفہوم

برزخ کا لغوی معنی دو چیزوں کے درمیان ایک ایسا پردہ، حائل یا آڑ ہے جو انہیں مکمل طور پر یکجا ہونے یا ایک دوسرے پر غالب آنے سے روکتا ہے۔ یہ آڑ نظر آنے والی مادی دیوار نہیں ہوتی بلکہ ایک نادیدہ سرحد کی مانند ہوتی ہے۔

لفظ لا يبغيان (La Babghiyan) کا مفہوم

بغی کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا یا کسی کا حق غصب کرنا۔ “لا يبغيان” کا مطلب ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی سمندر اپنی حد سے تجاوز کر کے دوسرے کے وجود، خصوصیات اور خصوصاً نمکیات کو تباہ نہیں کرتا۔

3. جدید سائنسی دریافت (Oceanography) کیا کہتی ہے؟

سائنسدانوں نے بیسویں صدی کے وسط میں جب بحیرہ روم (Mediterranean Sea) اور بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean) کے ملنے کے مقام پر تحقیق شروع کی تو انہیں ایک عجیب و غریب صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ جبل الطارق (Strait of Gibraltar) کے مقام پر دونوں سمندروں کا پانی اپس میں ٹکراتا ہے، مگر ان کا رنگ، کیمیائی ساخت اور کثافت ایک دوسرے سے بالکل مختلف رہتی ہے۔

کثافت اور نمکیات کا فرق (Pycnocline Layer)

بحری سائنس کے مطابق ہر سمندر کے پانی کی نمکیات (Salinity)، درجہ حرارت (Temperature)، اور کثافت (Density) الگ ہوتی ہے۔ جہاں دو مختلف خصوصیات والے سمندر ملتے ہیں، وہاں پانی کے مالیکیولوں کے مابین سطحی تناؤ (Surface Tension) کی وجہ سے ایک نادیدہ لہر یا پردہ بن جاتا ہے جسے سائنسی زبان میں Pycnocline یا Thermohaline barrier کہتے ہیں۔

یہ پردہ دونوں پانیوں کو فوراً گھلنے ملنے سے روکتا ہے۔ پانی آہستہ آہستہ ایک سمندر سے دوسرے میں منتقل تو ہوتا ہے لیکن وہ اپنی اصل کیمیائی خصوصیت تبدیل کر کے دوسرے سمندر کی کثافت میں ڈھل جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دونوں سمندر اپنی اپنی شناختی خصوصیات برقرار رکھتے ہیں۔

4. دنیا میں یہ قدرتی سرحدیں کہاں کہاں موجود ہیں؟

صرف بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس ہی نہیں، بلکہ دنیا میں ایسے کئی مقامات ہیں جہاں دو سمندر یا مختلف خصوصیات کے پانی آپس میں ملتے ہیں لیکن اپنی حد قائم رکھتے ہیں:

  • خلیج الاسکا (Gulf of Alaska): یہاں بحر الکاہل کا گہرا نیلا پانی اور گلیشیئرز سے آنے والا ہلکا مٹیالا اور میٹھا پانی بالکل ایک لائن پر علیحدہ نظر آتے ہیں۔
  • جبل الطارق (Strait of Gibraltar): بحیرہ روم کا گرم و زیادہ نمکین پانی اور بحر اوقیانوس کا ٹھنڈا و کم نمکین پانی۔
  • شٹ العرب (Shatt al-Arab): جہاں دجلہ اور فرات کا میٹھا پانی خلیج فارس کے کھارے پانی سے ملتا ہے (جس کا ذکر سورۃ الفرقان میں بھی ہے)۔

5. سورۃ الفرقان میں میٹھے اور کھارے پانی کا تذکرہ

قرآن کریم نے صرف دو کھارے سمندروں ہی نہیں بلکہ میٹھے اور کھارے پانی کے ملاپ کا ذکر بھی ایک دوسری سورت میں فرمایا ہے۔ سورۃ الفرقان میں ارشاد ہوتا ہے:

وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَّحْجُورًا
“اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو آپس میں ملا رکھا ہے، یہ ایک خوشگوار میٹھا ہے اور یہ دوسرا سخت کھارا، اور ان دونوں کے درمیان اس نے ایک پردہ اور مضبوط رکاوٹ بنا دی ہے۔” (سورۃ الفرقان: 53)

علمی و سائنسی باریکی

غور طلب بات یہ ہے کہ سورۃ الرحمن میں جہاں دو کھارے سمندروں کا ذکر تھا وہاں صرف “برزخ” (آڑ) کا لفظ استعمال ہوا، جبکہ سورۃ الفرقان میں جہاں میٹھے اور کھارے پانی کا ذکر آیا وہاں “برزخاً وحجراً محجوراً” یعنی ایک سخت ناگزیر رکاوٹ کا ذکر کیا گیا۔

سائنس بتاتی ہے کہ میٹھے دریا اور کھارے سمندر کے ملنے کے مقام (Estuaries) پر ایک پورا درمیانی زون (Estuarine zone) بنتا ہے جہاں کیمیائی اور حیاتاتی توازن کے لیے زیادہ سخت رکاوٹ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ سمندری حیاتیات برقرار رہ سکیں۔ یہ قرآنی الفاظ کا کمال ہے جو عین سائنسی حقائق کی عکاسی کرتا ہے۔

6. بحری حیاتیات (Marine Life) پر اس سرحد کے اثرات

اگر یہ نادیدہ برزخ یا پردہ نہ ہوتا اور دنیا بھر کے تمام سمندروں کا پانی بالکل یکساں کثافت میں حل ہو جاتا، تو سمندری یکسانیت کی وجہ سے ماحولیاتی نظام تباہ ہو جاتا۔

ماحولیاتی اہمیت: کچھ سمندری مچھلیاں اور جڑی بوٹیاں صرف خاص درجہ حرارت اور نمکیات کے پانی میں زندہ رہ سکتی ہیں۔ اگر یہ سرحدیں ختم ہو جائیں تو ہزاروں نایاب بحری مخلوقات کا وجود خطرے میں پڑ جائے۔ اللہ تعالی نے اس نادیدہ پردے کے ذریعے بحری دنیا کے حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کو محفوظ رکھا ہے۔

7. قدیم مفسرین اور جدید سائنسدانوں کا نقطہ نظر

قدیم دور کے جلیل القدر مفسرین نے بھی ان آیات کے معانی کو اپنے دور کی معلومات کے مطابق سمجھنے کی کوشش کی۔ امام ابن کثیر، علامہ قرطبی اور دیگر مفسرین نے تحریر کیا کہ اس سے مراد زمین پر موجود پانیوں کا نظم و ضبط ہے کہ اللہ نے انہیں ایک حد میں رکھا ہے تاکہ وہ خشکی کو غرق نہ کریں۔

تاہم جیسے جیسے انسان نے سمندری گہرائیوں کا مطالعہ کیا، جدید دور کے سائنسدان اور ماہرینِ ارضیات، جیسے کہ فرانسیسی ماہر بحریات ژاک کوسٹو (Jacques Cousteau)، قرآن کریم کی ان آیات کے صریح مفہوم کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ژاک کوسٹو نے جب جبل الطارق کے مقام پر دونوں پانیوں کا تجربہ کیا تو اس نے تسلیم کیا کہ یہ حقیقت قرآن میں پہلے سے موجود ہونا ایک معجزہ ہے۔

8. اسلام اور سائنس کی ہم آہنگی: ایک جائزہ

یہ سائنسی انکشاف اس بات کی بین دلیل ہے کہ قرآن مجید اور جدید سائنس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ جہاں انسانی سائنس تجربات اور غلطیوں کے ذریعے صدیوں بعد کسی نتیجے پر پہنچتی ہے، قرآن مجید پہلے ہی دن سے حتمی سچائی بیان کر دیتا ہے۔

  1. قرآن مجید کا بنیادی مقصد ہدایت ہے، لیکن اس میں بیان کردہ سائنسی اشارے اس کے الہامی ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔
  2. 1400 سال پہلے کسی انسانی بصیرت کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ سمندر کی تہہ میں موجود کثافتی سرحدوں کے بارے میں جان سکے۔
  3. یہ تمام مظاہر انسان کو دعوتِ فکر دیتے ہیں کہ وہ کائنات کے واحد خالق کی ربوبیت کا اعتراف کرے۔

9. خلاصہ و نچوڑ (Conclusion)

سورۃ الرحمن میں بیان کردہ سمندروں کے نہ ملنے کا واقعہ جدید سائنس کا ایک ایسا زبردست معجزہ ہے جو عقلِ انسانی کو مبہوت کر دیتا ہے۔ دو سمندروں کا ایک دوسرے کے ساتھ بہنا، لیکن اپنی نمکیات، کثافت اور درجہ حرارت کو برقرار رکھنا ایک ایسا توازن ہے جو صرف ایک قادرِ مطلق ذات ہی قائم کر سکتی ہے۔

یہ حقیقت ہر منصف مزاج انسان کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالی کا سچا کلام ہے جس نے کائنات کے ان پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھایا جنہیں سمجھنے کے لیے انسان کو اکیسویں صدی تک کا انتظار کرنا پڑا۔ پس قرآن کا یہ سوال ہر لمحہ دلوں کو گرماتا ہے: “فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ” (تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور نشانیوں کو جھٹلاؤ گے؟)

Leave a Comment