1. تمہید: کائنات کا راز اور انسانی تسخیر
انسان روزِ اول سے اس کائنات کی وسعتوں، تاروں کی چمک، چاند سورج کی گردش اور اس وسیع و عریض نظام کو دیکھ کر حیرت کے سمندر میں ڈوبا رہا ہے۔ انسان کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوالات ابھرتے رہے ہیں کہ یہ کائنات کیسے وجود میں آئی؟ کیا یہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی یا اس کا کوئی نقطہِ آغاز تھا؟ اور اس عظیم الشان کارخانے کا خالق کون ہے؟ قدیم زمانے سے لے کر آج تک فلکیاتدانوں اور سائنسدانوں نے ان تمام سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔
جدید سائنس نے بیسویں صدی کے بعد تکنیکی ترقی، جدید ترین دوربینوں اور خلائی تحقیقات کی مدد سے کائنات کی اصل حقیقت کو سمجھنے کی کوششیں تیز کیں۔ اس سائنسی سفر میں جو سب سے بڑا اور بنیادی نظریہ سامنے آیا، اسے سائنس کی دنیا میں بگ بینگ تھیوری کہا جاتا ہے۔ تاہم، ایک مسلمان اور غیر جانبدار محقق کے لیے یہ بات انتہائی ششدر کر دینے والی ہے کہ جو حقائق سائنسدانوں نے بیسویں اور اکیسویں صدی میں جدید لیبارٹریوں اور ریاضیاتی حساب کتاب سے حاصل کیے، ان کا واضح اشارہ اور تفصیلی ذکر 1400 سال قبل صحرائے عرب میں نازل ہونے والی کتاب، قرآنِ مجید میں پہلے سے موجود ہے۔
قرآن کریم نے ہمیں یہ بات واضح الفاظ میں بتائی ہے کہ یہ کائنات کسی اتفاقی واقعہ کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک باقاعدہ اور مضبوط نظام ہے جسے ایک اعلیٰ اور برتر ذات نے حکمت اور تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس مضمون میں ہم سائنس اور قرآن کے اسی تعلق کا تفصیلی اور سائنسی جائزہ لیں گے۔
2. بگ بینگ تھیوری کیا ہے؟ جدید سائنس کا نقطہ نظر
بگ بینگ تھیوری فلکیاتی سائنس اور کیہانیات کا وہ مقبول ترین اور مسلمہ علمی ماڈل ہے جو کائنات کے وجود میں آنے کی وضاحت کرتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، آج سے تقریباً 13.8 ارب سال پہلے یہ تمام کائنات، تمام مادّہ، توانائی، وقت اور خلا ایک انتہائی چھوٹے، شدید گرم اور کثیف نقطے پر مرکوز تھے۔ اس ابتدائی حالت کو سائنس دان سنگولیرٹی کہتے ہیں۔ اس مرحلے پر فزکس کے تمام عام قوانین مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں اور صرف ایک انتہائی کثیف نقطہ موجود ہوتا ہے۔
عظیم دھماکہ یا تیز ترین پھیلاؤ
اس نقطے میں ایک انتہائی شدید اور تیز ترین پھیلاؤ ہوا جسے بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اس عظیم پھیلاؤ کے ساتھ ہی وقت اور خلا کا سفر شروع ہوا۔ ابتدائی سیکنڈز کے انتہائی چھوٹے حصوں میں مادّہ پھیلنا شروع ہوا، درجہ حرارت کم ہوا، اور بنیادی ذرات جیسے پروٹان، نیوٹران اور الیکٹران تشکیل پائے۔ اس شروعات نے کائنات کو مسلسل ترقی کی طرف گامزن کیا۔
ستاروں اور کہکشاؤں کی تشکیل
رفتہ رفتہ اربوں سالوں کے عمل کے دوران ان بنیادی ذرات سے گیسوں کے بادل بنے، جن میں بنیادی طور پر ہائیڈروجن اور ہیلیم شامل تھیں۔ ان گیسوں کی ترسیل اور کششِ ثقل کے زیرِ اثر آہستہ آہستہ پہلے ستارے، پھر کہکشائیں، پھر ہمارا نظامِ شمسی اور بالآخر ہماری زمین وجود میں آئی، جس پر زندگی کی تمام تر خصوصیات پیدا کی گئیں۔
3. قرآن مجید اور بگ بینگ: تخلیقِ کائنات کا قرآنی وژن
قرآن کریم کوئی سائنس کی نصابی کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ ہدایت اور بصیرت کی کتاب ہے۔ لیکن چونکہ اس کا خالق وہی ذات ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا، اس لیے قرآن کی آیات اور کائنات کے سائنسی قوانین میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ قرآن پاک انسان کو بار بار کائنات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ وہ اپنے خالق کی قدرت اور وحدانیت کو پہچان سکے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے کائنات کی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر انتہائی فصیح اور بلیغ عربی زبان میں کیا ہے۔ سائنس دان جب کائنات کی شروعات کو دریافت کرتے ہیں تو قرآن مجید کی آیات ان کے سامنے ایک زندہ معجزے کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ قرآن کریم کا طرزِ بیان انسان کے عقل و شعور کو بیدار کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ تمام نظام ایک منصوبہ بندی کے تحت قائم ہوا ہے۔
4. کائنات کا جڑا ہونا اور پھٹ کر الگ ہونا (رتق اور فتق)
بگ بینگ تھیوری کا سب سے بنیادی نقطہ یہ ہے کہ ابتدا میں تمام آسمانی اجرام، کہکشائیں اور مادّہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ قرآن مجید کی سورۃ الانبیاء میں اس عظیم سائنسی حقیقت کو جس جامعیت سے بیان کیا گیا ہے، وہ عقل کو حیران کر دینے کے لیے کافی ہے۔
لغوی و علمی تجزیہ
اس قرآنی آیت پر جب ہم لغوی اعتبار سے غور کرتے ہیں تو دو الفاظ انتہائی اہمیت کے حامل نظر آتے ہیں جن کا گہرا سائنسی تعلق ہے:
لفظ رتق (Ratq) کا مفہوم
عربی لغت اور قدیم تفاسیر کے مطابق رتق کا مطلب ہے دو یا زیادہ چیزوں کا اس طرح باہم ملا ہوا یا جڑا ہوا ہونا کہ وہ ایک پیوست اکائی بن جائیں۔ یہ بالکل سائنس کے اس تصور Singularity کی عکاسی کرتا ہے جہاں تمام مادّہ یکجا تھا اور الگ الگ وجود نہیں رکھتا تھا۔
لفظ فتق (Fataq) کا مفہوم
فتق کے معنی ہیں کسی جڑی ہوئی چیز کو پھاڑ کر، چاک کر کے یا دھماکے سے الگ الگ کرنا۔ یہ لفظ بالکل اسی عمل کو بیان کرتا ہے جسے سائنس میں Big Bang یا عظیم پھیلاؤ کہا جاتا ہے۔
ایک ایسا شخص جو 14 سو سال قبل کے عرب کے صحرا میں موجود تھا، جہاں کوئی لیبارٹری، دوربین یا سائنسی آلات نہیں تھے، اس کا اتنی باریکی سے کائنات کی ابتدائی حالت کو بیان کرنا اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں بلکہ کائنات کے خالق کا ہے۔
5. کائنات کا مسلسل پھیلاؤ (Expanding Universe)
بیسویں صدی کی شروعات تک دنیا کے تمام بڑے سائنس دان، بشمول البرٹ آئن سٹائن، اس مغالطے میں مبتلا تھے کہ کائنات ساکن ہے، یعنی نہ یہ پھیل رہی ہے اور نہ ہی سکڑ رہی ہے۔ لیکن 1929ء میں مشہور امریکی ماہرِ فلکیات ایڈون ہبل نے کیلیفورنیا کی ماؤنٹ ولسن آبزرویٹری میں طاقتور دوربین کے ذریعے مشاہدہ کیا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور بھاگ رہی ہیں۔
اس دریافت نے سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا اور یہ ثابت ہوا کہ کائنات ساکن نہیں بلکہ مسلسل پھیل رہی ہے۔ قرآن مجید نے اس تصور کو سورۃ الذاریات میں پہلے ہی بیان فرما دیا تھا:
عربی گرامر اور سائنسی مطابقت
اس آیت میں استعمال ہونے والا لفظ لموسعُون عربی قواعد کے مطابق اسمِ فاعل کا صیغہ ہے جو استمرار اور مسلسل جاری رہنے والے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ یعنی کائنات کا پھیلاؤ ایک بار ہو کر رک نہیں گیا بلکہ یہ عمل مسلسل جاری و ساری ہے، جو کہ بالکل جدید سائنس کی جدید ترین دریافتوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
6. ابتدائی کائنات کی حالت: “دھواں” (دخان)
جدید فلکیات کے مطابق، بگ بینگ کے بعد جب کائنات پھیلی تو ستارے اور کہکشائیں فوراً نہیں بن گئی تھیں۔ بلکہ ابتدا میں کائنات ایک انتہائی گرم، کثیف گیسی بادل اور باریک ذرات کے طوفان پر مشتمل تھی جس کو سائنسی زبان میں Cosmic Dust & Gas یا Plasma کہا جاتا ہے۔
قرآن کریم نے کائنات کے اس ابتدائی گیسی مرحلے کو بیان کرنے کے لیے انتہائی دقیق اور مناسب لفظ کا انتخاب کیا ہے۔ سورۃ فصلت میں ارشاد ہوتا ہے:
سائنسی نقطہ نظر سے دھواں (Smoke/Gas) وہ حالت ہے جس میں گرم گیسیں اور معلق ذرات شامل ہوتے ہیں۔ سائنس دان اعتراف کرتے ہیں کہ ابتدائی کائنات کو بیان کرنے کے لیے لفظ دخان (دھواں) سے زیادہ موزوں اور سائنسی اعتبار سے درست لفظ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا تھا۔
7. پانی سے تمام زندہ چیزوں کی تخلیق
بگ بینگ اور کائنات کی تخلیق کے بعد جب ہماری زمین مستحکم ہوئی، تو اس پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟ جدید بائیولوجی اور حیاتین دان اس بات پر متفق ہیں کہ زمین پر زندگی کا پہلا سائنسی قدم پانی کے اندر سائٹوپلازم کی شکل میں اٹھا، اور ہر زندہ خلیہ بنیادی طور پر 80% سے 90% پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔
قرآنی تصدیق
سورۃ الانبیاء کی آیت 30 کے آخری حصے میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ
“اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کی بنیاد رکھی، کیا پھر بھی وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے؟”
یہ قرآنی حقائق واضح کرتے ہیں کہ کائنات کی کیہانی تخلیق اور حیاتاتی تخلیق دونوں ایک ہی خالق کی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ بغیر پانی کے کسی بھی خلیے، پودے یا جانور کا زندگی برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
8. کائنات کی چھ ادوار میں تخلیق (ستۃ ایام)
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ذکر آتا ہے کہ اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کو “ستۃ ایام” (چھ دنوں/چھ ادوار) میں پیدا کیا۔ عام لوگ ایام کا مطلب ہمارے 24 گھنٹے والے دن سمجھتے ہیں، حالانکہ اس وقت سورج اور زمین کا وجود ہی نہیں تھا تو 24 گھنٹے کا دن کیسے ہو سکتا تھا؟
عربی زبان میں لفظ یوم کا مطلب صرف 24 گھنٹے کا دن نہیں بلکہ ایک طویل دور، زمانہ یا مرحلہ بھی ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں خود فرمایا گیا کہ اللہ کے نزدیک ایک دن ہزار سال یا پچاس ہزار سال کے برابر بھی ہوتا ہے۔
تخلیق کے چھ سائنسی ادوار
جدید کیہانیات بھی کائنات کی تخلیق کو چھ اہم ادوار میں تقسیم کرتی ہے:
- دی پلانک ایرا (The Planck Era): بگ بینگ کے فوراً بعد کا ابتدائی مرحلہ۔
- گرینڈ یونیفیکیشن ایرا (GUT Era): بنیادی قوتوں کی علیحدگی کا دور۔
- الیکٹروویک ایرا (Electroweak Era): کائنات کا تیز رفتار پھیلاؤ۔
- پارٹیکل ایرا (Particle Era): مادے اور بنيادی ذرات کی تشکیل۔
- نیوکلیو سنتھیسز ایرا (Nucleosynthesis Era): ابتدائی ایٹمی مرکزوں کی پیدائش۔
- اسٹار اینڈ گیلکسی ایرا (Galaxy & Star Era): ستاروں، کہکشاؤں اور سیاروں کی حتمی تشکیل۔
قرآن کا “ستۃ ایام” کا بیان جدید سائنس کے ان چھ تدریجی مرحلوں کے بالکل عین مطابق ہے۔
9. کائنات کا انجام: دی بگ کرینچ (The Big Crunch)
جہاں سائنسدان بگ بینگ کے ذریعے کائنات کی شروعات کو سمجھتے ہیں، وہیں وہ کائنات کے حتمی انجام پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ سائنسدانوں کے نزدیک کائنات کے انجام کے مختلف نظریات ہیں، جن میں سے سب سے مقبول نظریہ دی بگ کرینچ (The Big Crunch) ہے۔
اس نظریے کے مطابق، ایک وقت ایسا آئے گا جب کائنات کا پھیلاؤ رک جائے گا اور کششِ ثقل کے باعث تمام کہکشائیں، ستارے اور مادّہ دوبارہ واپس ایک دوسرے کی طرف کھینچنا شروع ہو جائیں گے اور کائنات دوبارہ اسی ابتدائی نقطے پر جا کر بند ہو جائے گی جہاں سے شروع ہوئی تھی۔
قرآنی تصویر کشی
قرآن پاک نے کائنات کے اس خوفناک انجام یعنی قیامت کو سورۃ الانبیاء میں اس طرح بیان فرمایا ہے:
آیت کا یہ مفہوم کہ کائنات کو ایسے لپیٹ دیا جائے گا جیسے کاغذ کو لپیٹا جاتا ہے، سائنسی نظریے Big Crunch کی بعینہ تصویر کشی کرتا ہے۔
10. اسلام، سائنس اور عقل کا باہمی تعلق
مغرب میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ مذہب اور سائنس آپس میں متصادم ہیں، کیونکہ ان کی تاریخ میں کلیسا اور سائنسدانوں کے درمیان شدید جنگ رہی۔ لیکن اسلام کی تاریخ اس سے بالکل مختلف ہے۔ اسلام میں سائنس اور عقل کو کبھی دین کا دشمن نہیں سمجھا گیا بلکہ علم کی جستجو کو ہر مسلمان پر فرض قرار دیا گیا ہے۔
قرآن کریم میں 750 سے زائد آیات ایسی ہیں جو انسان کو کائنات، قدرت، نیچر اور سائنسی مظاہر پر غور کرنے کی ہدایت دیتی ہیں۔ قرآن سائنس کی تصدیق کے لیے محتاج نہیں ہے، کیونکہ سائنس کے نظریات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں جبکہ قرآنی حقائق ابدی ہیں۔ تاہم، جب کوئی سائنسی تحقیق حتمی حقیقت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے، تو وہ قرآنی آیات کی صداقت کا مظاہرہ بن جاتی ہے۔
11. خلاصہ و نچوڑ (Conclusion)
بگ بینگ تھیوری، کائنات کا مسلسل پھیلاؤ، ابتدائی دھوئیں کی حالت، اور کائنات کا دوبارہ لپیٹا جانا—یہ تمام وہ جدید سائنسی حقائق ہیں جنہیں انسان نے اکیسویں صدی کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور ریاضی کی مدد سے دریافت کیا ہے۔ تاہم، ان حقائق کا قرآن پاک میں 1400 سال قبل اتنی سادگی، فصاحت اور درستی کے ساتھ موجود ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ:
- قرآن مجید کسی انسان کا ذہن یا تخلیق نہیں ہے۔
- نبی کریم حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں جنہوں نے یہ کلام انسانوں تک پہنچایا۔
- یہ کائنات خود بخود وجود میں نہیں آئی بلکہ اس کا ایک خالق و مالک ہے جس نے اسے ایک محکم تدبیر اور حکمت سے پیدا کیا ہے۔
مسلمانوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ قرآن مجید کو صرف تلاوت تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے معانی اور سائنسی اشاروں پر تحقیق کریں تاکہ دنیا کے سامنے اسلام کے آفاقی اور علمی پیغام کو پیش کیا جا سکے۔