قرآن اور جدید سائنس: چودہ سو سال پہلے بیان کیے گئے سائنسی حقائق
انسانی فکر کی تاریخ میں سائنس اور کلامِ الٰہی کا باہمی تعلق ہمیشہ علمی و عقلی بحث کا موضوع رہا ہے۔ جہاں مغربی فکر میں مذہب اور سائنس کو ایک طویل عرصے تک ایک دوسرے کے متصادم سمجھا جاتا رہا، وہاں اسلام نے عقل، مشاہدے اور کائنات پر تدبر کو ایمان کی ایک بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم بنیادی طور پر کوئی سائنسی نصابی کتاب نہیں، بلکہ ہدایت اور آیاتِ الٰہی کی کتاب ہے۔ تاہم، اس لازوال کلام میں کائنات کی تخلیق، فزکس، فلکیات، اور میڈیکل سائنس کے بارے میں ایسے اشارے اور حقائق موجود ہیں جنہیں جدید سائنس نے صدیوں کی تحقیق کے بعد تسلیم کیا ہے۔
آج کی جدید دنیا میں جب انسان سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے خلا کی گہرائیوں اور سمندر کی تہہ تک پہنچ چکا ہے، تو ایک سوال اکثر ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ کیا مذہب اور سائنس آپس میں مل سکتے ہیں؟ یورپ کی تاریخ میں ایک دور ایسا گزرا ہے جہاں سائنس دانوں اور مذہبی طبقے کے درمیان شدید جنگ رہی، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ سائنس اور مذہب دو الگ الگ راستے ہیں۔ لیکن جب ہم اسلام کی مقدس کتاب قرآنِ مجید کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ تاثر مکمل طور پر غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم کوئی سائنسی نصابی کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ ہدایت اور کائنات پر غور کرنے کی کتاب ہے۔ لیکن اس لازوال کتاب میں کائنات، انسان، زمین اور فلکیات کے بارے میں ایسے اشارے اور حقائق موجود ہیں جنہیں جدید سائنس نے صدیوں کی تحقیق اور اربوں ڈالر کے تجربات کے بعد آج بالکل درست تسلیم کیا ہے۔
سوچیے! آج سے چودہ سو سال پہلے عرب کا خطہ جہالت اور بدوئی زندگی میں ڈوبا ہوا تھا۔ نہ وہاں کوئی لیبارٹری تھی، نہ دوربین اور نہ ہی سائنس کے آلات۔ ایسے دور میں ایک امی ماحول میں نازل ہونے والی کتاب میں ایسی باریک سائنسی باتیں موجود ہونا جن کی تصدیق اکیسویں صدی کی سائنس کر رہی ہے، اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا گھڑا ہوا کلام نہیں بلکہ اس پوری کائنات کے پیدا کرنے والے کا اپنا فرمان ہے۔
1. علمِ فلکیات اور کائنات کی تخلیقی حقیقت
انسان ہمیشہ سے یہ سوچتا رہا ہے کہ یہ کائنات کیسے بنی؟ کیا یہ ہمیشہ سے ایسی ہی تھی یا اس کا کوئی شروعاتی نقطہ تھا؟ قدیم زمانے کے فلاسفہ سمجھتے تھے کہ کائنات ازل سے ساکن ہے اور ہمیشہ ایسے ہی رہے گی۔ لیکن بیسویں صدی کے سائنس دانوں نے اس نظریے کو غلط ثابت کر دیا۔
1920ء کی دہائی میں سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ ہماری کائنات ایک عظیم دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آئی جسے بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ سائنس بتاتی ہے کہ کائنات کا تمام مادّہ پہلے ایک دم جڑا ہوا اور ایک انتہائی چھوٹے نقطے کی صورت میں تھا۔ پھر ایک زبردست پھیلاؤ ہوا اور یہ کہکشائیں، ستارے اور زمین وجود میں آئے۔
عربی زبان میں رتق کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کا بالکل باہم جڑا ہوا ہونا، اور فتق کا مطلب ہوتا ہے کسی جڑی ہوئی چیز کو پھاڑ کر یا چیر کر الگ کر دینا۔ قرآن پاک کے یہ دو الفاظ عین اس سائنسی عمل کو بیان کرتے ہیں جسے آج کی سائنس بگ بینگ کہتی ہے۔
1929ء میں مشہور سائنس دان ایڈون ہبل نے بڑی طاقتور دوربین سے دیکھا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور بھاگ رہی ہیں۔ اس سے یہ حیران کن حقیقت سامنے آئی کہ کائنات ساکن نہیں ہے بلکہ ایک غبارے کی طرح مسلسل پھیل رہی ہے۔
قرآن پاک نے لفظ لموسعون استعمال کیا ہے جس کا مطلب ہے مسلسل وسعت دینے والا یا پھیلانے والا۔ چودہ سو سال پہلے جب کوئی انسان یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا، قرآن نے کائنات کے پھیلنے کی حقیقت کو صاف الفاظ میں بیان کر دیا تھا۔
2. سیاروں کی مداری حرکات اور روشنی کی نوعیت
قدیم دور میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد چکر لگاتا ہے۔ پھر ایک وقت آیا جب سائنس دانوں نے کہا کہ نہیں، سورج مرکز میں ساکن ہے اور تمام سیارے اس کے گرد گھومتے ہیں۔ لیکن جدید ترین فلکیات نے یہ ثابت کیا ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز بالکل ساکن نہیں ہے۔
آج کی سائنس بتاتی ہے کہ سورج نہ صرف ہماری کہکشاں ملکی وے کے مرکز کے گرد چکر لگا رہا ہے بلکہ وہ اپنے مدار میں بھی گھوم رہا ہے۔ قرآن پاک اس حقیقت کو کتنی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے:
یہاں قرآن نے لفظ یسبحون استعمال کیا ہے جس کا لفظی مطلب ہوتا ہے تیرنا۔ فضائے بسیط میں سیاروں کی حرکت کو تیرنے سے تشبیہ دینا سائنس کے عین مطابق ہے کیونکہ فضا میں سیارے اسی طرح توازن کے ساتھ تیر رہے ہیں۔
پرانے زمانے میں لوگ سمجھتے تھے کہ جیسے سورج چمکتا ہے، چاند کی بھی اپنی روشنی ہوتی ہے۔ لیکن سائنس نے بتایا کہ چاند کا اپنا کوئی بلب یا روشنی نہیں ہے، وہ تو صرف سورج کی روشنی کو شیشے کی طرح منعکس کر کے چمکتا ہے۔
قرآن میں جب بھی سورج کا ذکر آیا، اسے ضیاء یا سراج (چراغ) کہا گیا جو اپنی روشنی خود بناتا ہے، اور چاند کے لیے ہمیشہ نور کا لفظ استعمال کیا گیا جس کا مطلب ہے دوسرے سے روشنی لے کر چمکنا۔
3. علم الجنین اور انسانی پیدائش کے مراحل
ماں کے پیٹ میں بچہ کیسے بنتا ہے اور کن مراحل سے گزرتا ہے؟ یہ میڈیکل سائنس کا ایک انتہائی پیچیدہ شعبہ ہے جسے ایمبریالوجی کہا جاتا ہے۔ کینیڈا کے بہت بڑے ماہرِ اناٹومی پروفیسر کیتھ ایل مور نے جب قرآن میں بیان کردہ انسانی پیدائش کے مراحل کو دیکھا، تو وہ حیران رہ گئے اور انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ باتیں مائیکروسکوپ کی ایجاد سے چودہ سو سال پہلے کوئی انسان بیان ہی نہیں کر سکتا تھا۔
قرآن پاک سورۃ المؤمنون میں انسانی پیدائش کے مراحل کو اس طرح ترتیب سے بیان کرتا ہے:
آئیے ان مراحل کو جدید سائنس کی روشنی میں بالکل سادہ لفظوں میں سمجھتے ہیں:
- علقہ: عربی میں علقہ کے تین معنی ہوتے ہیں: جونک، چپکی ہوئی چیز، اور جمے ہوئے خون کا لوتھڑا۔ جدید مائیکروسکوپ سے معلوم ہوا کہ پیدائش کے ابتدائی دنوں میں جنین شکل اور رحم کی دیوار سے چپکنے کے عمل میں بالکل ایک جونک جیسا دکھائی دیتا ہے۔
- مضغہ: اس کے معنی ہیں چبایا ہوا گوشت۔ کچھ ہفتوں بعد جنین پر ایسے ابھار بن جاتے ہیں جیسے کسی چیز کو دانتوں سے چبا کر چھوڑ دیا گیا ہو۔
- ہڈیوں اور گوشت کا بننا: میڈیکل سائنس بتاتی ہے کہ پیٹ میں پہلے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنتا ہے، اور اس کے بعد ہڈیوں کے اوپر پٹھے اور گوشت کی تہہ چڑھائی جاتی ہے۔ قرآن نے بھی پہلے ہڈیاں (عظام) اور پھر گوشت (لحم) پہنائے جانے کا ذکر کیا ہے۔
4. سمندروں کے راز اور قدرتی آڑ
زمین پر 70 فیصد پانی اور سمندر ہیں۔ انسان نے سمندر کی گہرائیوں کے راز بیسویں صدی میں جدید آبدوزوں اور غوطہ خوری کے آلات کی مدد سے دریافت کیے۔ قرآن پاک نے سمندروں کے بارے میں بھی ایسے عجائبات بتائے ہیں جو عقل کو حیران کر دیتے ہیں۔
آج کی بحری سائنس نے ثابت کیا ہے کہ جہاں دو مختلف سمندر آپس میں ملتے ہیں (مثلاً بحرِ روم اور بحرِ اوقیانوس)، وہاں ان کے پانی آپس میں فوراً مکس نہیں ہوتے۔ دونوں سمندروں کے پانی کا نمکین پن، درجہ حرارت اور کثافت مختلف ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کے درمیان ایک قدرتی نادیدہ رکاوٹ بنی رہتی ہے۔
اگر آپ آج بھی مصر یا سپین کے قریب دو سمندروں کے ملنے کا مقام دیکھیں تو آپ کو پانی کی دو مختلف رنگتیں اور صفات الگ نظر آئیں گی۔ قرآن نے اس قدرتی آڑ کو برزخ کہا ہے۔
5. جیولوجی اور پہاڑوں کی ساخت
عام انسان پہاڑوں کو صرف سطحِ زمین پر موجود بڑے بڑے پتھر اور چٹانیں سمجھتا ہے۔ لیکن جیولوجی (علمِ طبقات الارض) کی جدید تحقیق نے پہاڑوں کی ایک عجیب حقیقت بتائی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق زمین کی اوپری سطح بہت پتلی ہے اور نیچے پگھلا ہوا مادّہ ہے۔ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین مسلسل لرزتی اور کانپتی رہتی۔ پہاڑ خیمے کی ان کیلوں یا کونٹوں کی طرح ہیں جن کی جڑیں زمین کے بہت اندر تک گہری چلی گئی ہیں اور انہوں نے زمین کی پلیٹوں کو جکڑ کر رکھا ہوا ہے۔
قرآن پاک میں پہاڑوں کے لیے لفظ اوتاد استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب خیمہ ٹھونکنے والی کیلیں ہوتا ہے۔ یہ لفظ عین اس سائنسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جو پہاڑوں کی جڑوں کے بارے میں آج سائنس نے دریافت کی ہے۔
حاصلِ کلام
پیارے قارئین! یہ قرآنِ کریم میں بیان کیے گئے سائنسی اشاروں کی صرف چند ایک مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ پودوں میں نر اور مادہ کا ہونا، ہواؤں کا بارش کے لیے بارآوری کا کام کرنا، اور فضا کی بلندی پر آکسیجن کا کم ہونا جیسی بیسیوں باتیں قرآن میں موجود ہیں۔
قرآن پاک کا مقصد انسان کو سائنس سکھانا نہیں، بلکہ انسان کو اس کے خالق کی پہچان کروانا ہے۔ جب ایک عام قاری یہ دیکھتا ہے کہ جو باتیں جدید سائنس آج ہزاروں سال بعد بڑی بڑی لیبارٹریوں میں دریافت کر رہی ہے، وہ باتیں ایک کتاب میں چودہ سو سال پہلے اتنی صفائی کے ساتھ لکھی ہوئی ہیں، تو عقل ماننے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ قرآن واقعی اللہ تعالیٰ کا سچا اور لازوال کلام ہے۔ یہ حقائق نہ صرف ہمارے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ ہمیں اس خوبصورت کائنات پر غور و فکر کرنے کی ترغیب بھی دیتے ہیں۔