ڈاکٹر اسرار احمد کا فکر انگیز تجزیہ: مسلمانوں کے زوال کے حقیقی اسباب

ڈاکٹر اسرار احمد کا فکر انگیز تجزیہ: مسلمانوں کے زوال کے حقیقی اسباب

1. تمہید: امتِ مسلمہ کا عالمی بحران اور دائرہ زوال

آج 21ویں صدی کا عالمِ اسلام جس سنگین اور ہمہ جہت زوال کا شکار ہے، وہ کسی حساس اور باشعور انسان سے پوشیدہ نہیں۔ ساڑھے ایک ارب سے زائد آبادی، بے شمار قدرتی وسائل، تیل کے وسیع ذخائر اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ترین مقامات پر قابض ہونے کے باوجود امتِ مسلمہ عالمی منظر نامے پر سیاسی مقہوریت، اقتصادی محتاجی، علمی جمود اور فکری بے راہ روی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ فلسطین سے لے کر کشمیر تک، اور دنیا کے دیگر خطوں میں مسلمان جس بې بسی اور مظلومیت کا شکار ہیں، اس نے علمائے امت اور مفکرین کو بارہا اس سوال پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے کہ “وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے دنیا پر سیادت کرنے والی امت کو زوال کی اس عمیق کھائی میں دھکیل دیا؟”

اس المیے اور بحران پر متعدد تاریخی، سیاسی اور معاشی زاویوں سے لکھا گیا، لیکن برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، ممتاز قرآنی مفکر اور بانی تنظیمِ اسلامی **ڈاکٹر اسرار احمد (رحمۃ اللہ علیہ)** کا تجزیہ اس لحاظ سے بالکل منفرد، عمیق اور معروضی ہے کہ انہوں نے سطحی اور جذباتی نعرے بازی کے بجائے مسئلے کی اصل جڑ کو دریافت کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے پانچ دہائیوں پر محیط دعوتی و تدریسی سفر، خصوصاً اپنے شہرہ آفاق “بیان القرآن” اور فلسفہ تاریخ پر مبنی خطبات کے ذریعے امت کو یہ باور کرایا کہ مسلمانوں کا زوال محض معاشی بدحالی یا عسکری ناکامی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ بنیادی طور پر ایک ہلاکت خیز ایمانی، قرآنی اور اخلاقی انحطاط کا قدرتی نتیجہ ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد کا بنیادی مقدمہ یہ تھا کہ مسلمان کوئی عام دنیاوی قوم نہیں ہیں جن کے عروج و زوال کا فیصلہ محض مادی طاقت سے ہو۔ یہ ایک صاحبِ کتاب اور صاحبِ رسالت امت ہے جس کا عروج و زوال براہِ راست اللہ تعالی کے مقرر کردہ آفاقی اصولوں اور سنت الٰہی سے جڑا ہوا ہے۔ ذیل میں ہم ڈاکٹر اسرار احمد کے افکار کی روشنی میں مسلمانوں کے زوال کے تمام بنیادی، تاریخی اور فکری اسباب کا تفصیلی اور عمیق جائزہ پیش کرتے ہیں۔

2. قرآنِ مجید سے بنیادی اور تحریکی تعلق کا انقطاع

ڈاکٹر اسرار احمد کے نزدیک مسلمانوں کے زوال کا سب سے بڑا، بنیائی اور بنیادی سبب **قرآنِ مجید سے عملی، فکری اور تحریکی تعلق کا ٹوٹ جانا** ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امتِ مسلمہ کا وجود ہی قرآن کا مرہونِ منت ہے۔ جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت نے قرآن کو ہدایت اور انقلاب کا سرچشمہ بنا کر دنیا کو فتح کیا اور تاریکیوں سے نکالا، بالکل اسی طرح جب امت نے قرآن سے اپنا تعلق رسمی اور روایتی بنا لیا تو زوال کا سفر شروع ہو گیا۔

قرآن سے تعلق کے زوال کے 5 مراحل

ڈاکٹر صاحب نے امت کے قرآنی تعلق کے زوال کو پانچ بنیادی حقوق کی پامالی میں تقسیم کیا:

  • تلاوتِ محض تک محدود رہنا: مسلمانوں نے قرآن کو صرف باعثِ ثواب کتاب بنا دیا اور اس کو تدبر و تفکر کے بغیر محض زبان سے پڑھنے پر اکتفا کر لیا۔
  • فہم و تدبر کا خاتمہ: پڑھے لکھے طبقات نے بھی قرآن کو براہِ راست سمجھنے اور اس کے پیغام میں غوطہ زن ہونے کی کوشش ترک کر دی اور اسے صرف علما کی تحویل میں دے دیا۔
  • قرآن کو قانونی و حاکماتی کتاب نہ ماننا: قرآن مجید کو زندگی کا کامل ضابطہ حیات (Code of Life) ماننے کے بجائے صرف ذاتی عبادات اور تعویذات تک محدود کر دیا گیا۔
  • قرآن کا تعویذاتی اور تبرکاتی استعمال: قرآن کو گھروں کی الماریوں میں سجا کر رکھنا، مرنے والوں کے ایصالِ ثواب یا محض بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کرنا، لیکن اسے معاشرتی اور معاشی انقلاب کا ذریعہ نہ بنانا۔
  • نشر و اشاعت اور اقامت کی ذمہ داری سے فرار: قرآن کے پیغام کو دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچانے اور اس کی حاکمیت قائم کرنے کی تحریکی ذمہ داری کو بھلا دینا۔

ڈاکٹر صاحب اپنے خطبات میں حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا یہ شعر کثرت سے پیش کرتے تھے جو ان کے موقف کی بہترین عکاسی کرتا ہے:

وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر / اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

3. مقصدِ بعثتِ امت کی فراموشی (اقامتِ دین سے انحراف)

ڈاکٹر اسرار احمد کے فلسفہ زوال کا دوسرا اہم ترین نقطہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے اس بنیادی مقصد اور منصب کو بھلا دیا جس کے لیے انہیں ایک الگ امت کے طور پر برپا کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا ماننا تھا کہ امتِ مسلمہ دیگر اقوام کی طرح محض جغرافیائی، نسلی یا لسانی گروہ کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک **”مشنری امت”** ہے۔

قرآنی منشور (سورۃ آل عمران: 110):

“كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ”
(تم وہ بہترین امت ہو جسے انسانوں کے لیے نکال گیا ہے، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو)۔

شہادتِ حق اور اقامتِ دین سے فرار

ڈاکٹر صاحب کے تجزیے کے مطابق جب امتِ مسلمہ نے اپنے اس بنیائی منصب یعنی **”اقامتِ دین”** (اللہ کے دین کو دنیا کے تمام باطل نظاموں پر غالب کرنے کی کوشش) اور **”شہادت علی الناس”** (دنیا کے سامنے اپنے کردار اور قول سے اسلام کی حقانیت کی گواہی دینا) کو چھوڑ دیا، تو اللہ تعالی کے سنت کے مطابق وہ دنیا کی نظروں میں بے وقعت ہو گئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب کوئی قوم اپنے بنیادی مقصدِ وجود سے انحراف کرتی ہے تو قدرت اسے مٹا دیتی ہے یا اس کی جگہ کسی دوسری قوم کو لے آتی ہے۔ مسلمانوں نے جب دین کو صرف انفرادی عبادات (نماز، روزہ، حج) تک محدود کر لیا اور اجتماعی و سیاسی زندگی میں اللہ کی حاکمیت کے قیام کی جدوجہد چھوڑ دی، تو ان پر مغلوبیت تھوپ دی گئی۔

4. خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف منتقلی

تاریخی اور سیاسی تناظر میں ڈاکٹر اسرار احمد نے مسلمانوں کے زوال کا سب سے بڑا سیاسی سبب **نظامِ خلافت کا خاتمہ اور ملوکیت (Cæsarism/Monarchy) کا غلبہ** قرار دیا۔ وہ اس تاریخی موڑ کو اسلام کی سیاسی اور اجتماعی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ مانتے تھے۔

ملوکیت کے تباہ کن اثرات

خلافتِ راشدہ کے بعد جب بنو امیہ اور بنو عباس کے ادوار میں شخصی اور خاندانی حکومتیں قائم ہوئیں، تو اس کے نتیجے میں ذیل کے بھیانک نتائج برآمد ہوئے:

  1. شورائیت اور جمہوریت کا خاتمہ: حکمرانوں کا انتخاب امت کی آزادانہ رائے اور شوریٰ کے بجائے تلوار اور خاندانی وراثت کی بنیاد پر ہونے لگا۔
  2. امر بالمعروف کا سلب ہونا: جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنے والوں پر ظلم و ستم ڈھایا گیا، جس سے امت کی اخلاقی جرات ختم ہو گئی۔
  3. دین اور سیاست کی تفریق: ملوکیت نے سیاست کو شریعت کی پابندی سے آزاد کر دیا، جس کے نتیجے میں حکمران اپنی عیاشیوں میں مست ہو گئے اور علما و صوفیا خانقاہوں اور مدرسوں تک محدود ہو گئے۔
  4. عدل و انصاف کے معیار کا زوال: انصاف عام آدمی کے لیے نایاب ہو گیا اور طبقاتی تقسیم نے جنم لیا۔

5. فکری جمود، انسدادِ اجتہاد اور سائنسی زوال

ڈاکٹر اسرار احمد نے مسلمانوں کے علمی اور فکری انحطاط پر گہرا دکھ ظاہر کیا۔ انہوں نے اپنے مختلف خطبات میں اس بات کی نشاندہی کی کہ اسلام کے ابتدائی چند سو سالوں میں مسلمانوں نے جہاں دینی علوم میں امامت کی، وہاں طبیعیات (Physics)، کیمیا (Chemistry)، طب (Medicine)، فلکیات (Astronomy) اور ریاضی میں دنیا کی قیادت کی۔ بغداد، قرطبہ (Cordoba) اور قاہرہ دنیا کے علم و حکمت کے سب سے بڑے مراکز تھے۔

اجتہاد کا دروازہ بند ہونا

لیکن عباسی دور کے زوال اور تاتاریوں کے حملے کے بعد مسلمان علما اور فقہا نے حالات کے جبر سے خوفزدہ ہو کر **بابِ اجتہاد** کو مکمل طور پر بند کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ:

  • مسلم فکر میں جمود (Stagnation) پیدا ہو گیا اور تقلیدِ جامد کو مذہب کا درجہ دے دیا گیا۔
  • جدید دور کے بدلتے ہوئے مسائل کا حل قرآن و سنت سے نکالنے کی صلاحیت ختم ہو گئی۔
  • کائنات کے مظاہر پر غور و فکر اور سائنسی تحقیق و ایجادات سے مسلمان دور ہوتے چلے گئے، جبکہ مغرب نے مسلمانوں ہی کے ترجمہ شدہ علوم کو بنیاد بنا کر سائنسی انقلاب (Scientific Revolution) برپا کر دیا۔

6. تصوف کی عجمیت اور زہدِ بارد کا غلبہ

ڈاکٹر اسرار احمد نے جہاں حقیقی تصوف اور احسان (زہد، تقویٰ، اور صفائے قلب) کی اہمیت کو تسلیم کیا، وہاں انہوں نے اس عجمی تصوف پر کڑی تنقید کی جس نے مسلمانوں کو دنیاوی ذمہ داریوں، جہاد اور اقامتِ دین کی جدوجہد سے بے گانہ کر دیا۔

ان کے تجزیے کے مطابق جب یونانی فلسفے اور عجمی افکار اسلامی فکر میں شامل ہوئے، تو ایک ایسا منفی زہد اور رہبانیت پیدا ہوئی جس نے مسلمانوں کو سکھایا کہ دنیا محض ایک فریب ہے، اس لیے حکومت، طاقت اور سائنسی ترقی کی کوشش کرنے کے بجائے صرف خانقاہوں میں بیٹھ کر ذکر و اذکار پر اکتفا کیا جائے۔ اس سوچ نے مسلمانوں کو بے عمل، کاہل اور دنیاوی امور سے مکمل طور پر بے نیاز کر دیا، جس کا بھرپور فائدہ غیر مسلم اقوام نے اٹھایا۔

7. اخلاقی انحطاط، حبِ دنیا اور نفاق کا پھیلاؤ

ڈاکٹر صاحب نے بارہا اس حدیثِ مبارکہ کا حوالہ دیا جس میں رسول اللہ ﷺ نے آخری زمانے میں مسلمانوں پر اقوامِ عالم کے ٹوٹ پڑنے کی پیش گوئی فرمائی تھی اور اس کا سبب **”وہن” (Wahn)** کو قرار دیا تھا۔ صحابہ نے پوچھا: “اے اللہ کے رسول! وہن کیا ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: **”دنیا کی محبت اور موت کا ڈر۔”**

اخلاقی زوال کا منظرنامہ: ڈاکٹر اسرار احمد نے نشاندہی کی کہ جب مسلمان مادیت پرستی، مال و دولت کی حرص، عیش و عشرت اور امارت کے شیدائی ہو گئے تو ان کے اندر سے ایثار، قربانی، تقویٰ اور جذبہ جہاد ختم ہو گیا۔ نفاق اور جھوٹ نے معاشرے میں جڑیں پکڑ لیں، جس کی وجہ سے اللہ کی نصرت و مدد مسلمانوں سے اٹھ گئی۔

8. مغرب کی اندھی تقلید اور فکری غلامی

جدید دور کے تناظر میں ڈاکٹر اسرار احمد نے مسلمانوں کی **مغربی تہذیب، سیکیولرازم اور مادہ پرستی** کی اندھی تقلید کو زوال کا اخری اور خطرناک ترین مرحلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اور عسکری غلامی سے زیادہ خطرناک **فکری اور ذہنی غلامی** ہوتی ہے۔

مسلم دنیا کا تعلیم یافتہ طبقہ اپنے دین، تاریخ اور تہذیب پر شرمندہ ہونے لگا اور اس نے مغرب کے سیاسی (جمہوریت)، معاشی (سود پر مبنی کیپیٹلزم) اور سماجی (آزاد خیالی/لیبرلزم) نظاموں کو عین حق سمجھ کر اپنانا شروع کر دیا۔ اس فکری دورنگی اور احساسِ کمتری نے مسلمانوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیا اور وہ نہ مکمل طور پر اسلامی رہ سکے اور نہ ہی مکمل طور پر مغربی بن سکے۔

9. عروج و زوال کا تاریخی اور ادوار کا تقابلی جائزہ

ڈاکٹر اسرار احمد کے فلسفہ تاریخ کی روشنی میں امتِ مسلمہ کے تاریخی ادوار کا تقابلی جائزہ ذیل کے جدول سے واضح ہوتا ہے:

تاریخی دور قرآن و دین سے تعلق سیاسی و اخلاقی حالت عالمگیر مقام و نتیجہ
عہدِ نبوی و خلافتِ راشدہ قرآن کامل ضابطہ حیات، فہم و تدبر اور انقلابی تحرک۔ عدل، شورائیت، تقویٰ، ایثار اور مکمل اتحاد۔ عالمگیر غلبہ، قيادت اور عظیم سپر پاور۔
دورِ ملوکیت (بنو امیہ و عباس) قرآنی علوم میں ترقی، لیکن تحریکی روح میں کمی۔ شخصی حکومتیں، عیاشی کا آغاز، فکری انتشار۔ ظاہری وسعت اور علمی عروج، لیکن سیاسی زوال کا آغاز۔
دورِ زوال و استعمار قرآن محض تبرک، تلاوت اور تعویذات تک محدود۔ فکری جمود، تقلیدِ جامد، باہمی فرقہ واریت۔ غربی استعمار کی غلامی اور خلافت کا خاتمہ۔
موجودہ عصرِ حاضر عملی کٹاؤ، دینی تعلیم اور جدید تعلیم میں خلیج۔ مغربی افکار کی فکری غلامی، سودی نظام، نفاق۔ سیاسی مقہوریت، معاشی محتاجی اور بے بسی۔

10. ڈاکٹر اسرار احمد کا پیش کردہ حل: زوال سے نکلنے کا راستہ

ڈاکٹر اسرار احمد محض زوال کے اسباب کا نوحہ پڑھنے والے مفکر نہیں تھے، بلکہ انہوں نے اس اندھیرے سے نکلنے کے لیے ایک انتہائی واضح، مفصل اور عملی **”انقلابی لائحہ عمل”** پیش کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ جس طرح کا بگاڑ پیدا ہوا ہے، بالکل اسی نوعیت کی منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔

زوال کے علاج کے 4 بنیادی مراحل

  1. رجوع الی القرآن (قرآنی تحریک): ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ اصلاح کی شروعات پڑھے لکھے طبقے کو براہِ راست قرآن مجید کے فہم، ترجمہ اور تفسیر سے جوڑنے سے ہوگی۔ جب تک دانشور اور نوجوان طبقہ قرآن کے انقلابی پیغام سے بیدار نہیں ہوگا، کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔
  2. ایمانی و اخلاقی تجدید (تزکیہ نفس): انفرادی سطح پر ایمان کی تجدید، حلال و حرام کی تمیز، سودی نظام سے پاک زندگی اور اخلاقِ حسنہ کو بیدار کرنا تاکہ ایک صالح اور مضبوط کردار کا حامل گروہ تیار ہو سکے۔
  3. منظم اجتماعیت اور تنظیم: ڈاکٹر صاحب کے نزدیک بکھرے ہوئے افراد خواہ کتنے ہی نیک ہوں، باطل کے منظم نظام کو شکست نہیں دے سکتے۔ اس کے لیے ایک ایسی تنظیم اور جماعت کی ضرورت ہے جو سمع و طاعت کے نظم پر قائم ہو اور اقامتِ دین کو اپنا واحد مقصد بنائے۔
  4. اقامتِ دین کی پرامن تحریکی جدوجہد: انبیا علیہم السلام، بالخصوص سیرتِ طیبہ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بغیر کسی تشدد اور مسلح تصادم کے، فکری اور نظریاتی دعوت کے ذریعے معاشرے کے افکار کو بدلنا اور بالآخر اسلامی نظامِ حیات (خلافت) کو قائم کرنا۔

11. خلاصہ و نچوڑ (Conclusion)

ڈاکٹر اسرار احمد (رحمۃ اللہ علیہ) کا فکر انگیز تجزیہ ہمیں یہ کڑوی سچائی باور کراتا ہے کہ امتِ مسلمہ کے موجودہ زوال کا حقیقی ذمہ دار کوئی غیر یا بیرونی سازش اتنی نہیں ہے جتنے کہ ہم خود ہیں۔ غیروں کی سازشیں اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب جسم کے اندر کا مدافعتی نظام (Immune System) کھوکھلا ہو چکا ہو۔ مسلمانوں نے جب قرآنِ مجید کو چھوڑا، اقامتِ دین کی ذمہ داری سے منہ موڑا، ملوکیت اور فکری جمود کو اپنایا، اور دنیا کی محبت میں مبتلا ہوئے تو زوال ان کا مقدر بن گیا۔

آج بھی اگر امتِ مسلمہ اپنی کھوئی ہوئی عزت، وقار اور عالمی قیادت دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہے، تو اس کا واحد راستہ وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کرام نے اختیار کیا تھا۔ ڈاکٹر اسرار احمد کے الفاظ میں: “جس نسخہ کیمیا نے 1400 سال پہلے عرب کے بدوؤں کو دنیا کا امام بنا دیا تھا، وہی نسخہ یعنی **قرآن مجید کا حقیقی فہم اور اس کا غلبہ** آج بھی امت کے تمام دکھوں کا واحد مداوا ہے۔”

Leave a Comment