مولانا الیاس قادری کی سوانح حیات اور تحریکِ دعوتِ اسلامی کا قیام

مولانا الیاس قادری: ابتدائی زندگی، جدوجہد اور تحریکِ دعوتِ اسلامی کا قیام

برصغیر پاک و ہند کی اسلامی تاریخ ہمیشہ سے ایسے صوفیاء، علماء اور مصلحینِ دین سے مالا مال رہی ہے جنہوں نے اپنے علم، تقویٰ اور بے لوث جدوجہد سے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا۔ بیسویں صدی کے آخری عشروں میں جب دنیا تیزی سے مادیت، اخلاقی انحطاط اور مذہبی تعلیمات سے دور ہو رہی تھی، ایک ایسی شخصیت نے جنم لیا جس نے اپنی عاجزی، حکمتِ عملی اور پیار و محبت کے اندازِ تبلیغ سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں سنتِ نبوی کا علم بلند کیا۔ اس عظیم مذہبی شخصیت کو دنیا امیرِ اہلسنت، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ کے نام سے جانتی ہے۔

1. ولادتِ با سعادت اور خاندانی پس منظر

حضرت مولانا الیاس قادری کی ولادتِ با سعادت 26 رمضان المبارک 1369ھ بمطابق 12 جولائی 1950ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں ہوئی۔ آپ کا تعلق ایک انتہائی شریف، مذہبی اور پرہیزگار خاندان سے تھا۔ آپ کے آباؤ اجداد کا تعلق ہندوستان کی ریاست گجرات کے قصبے کُٹیانہ (جونا گڑھ) سے تھا، جہاں سے قیامِ پاکستان کے وقت آپ کے والدینِ گرامی ہجرت کر کے کراچی منتقل ہوئے اور یہی مستقل سکونت اختیار کی۔

آپ کے والدِ گرامی حاجی عبدالرحمن قادری رحمۃ اللہ علیہ ایک انتہائی متقی، عبادت گزار اور بزرگ صفت انسان تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے بچوں کی تربيت حلال روزی اور دینی اصولوں پر کی۔ تاہم، مولانا الیاس قادری ابھی شیر خوارگی کے مرحلے میں ہی تھے کہ آپ کے والدِ گرامی کا انتقال ہو گیا۔ یوں آپ کی پرورش کا تمام تر بار آپ کی والدۂ محترمہ پر آ گیا، جنہوں نے انتہائی صابرانہ انداز میں آپ کی تربیت فرمائی اور آپ کے اندر مذہبی شغف کی بنیاد رکھی۔

2. حصولِ علمِ دین اور اساتذہ کا مقام

یتیمی اور معاشی مشکلات کے باوجود مولانا الیاس قادری کے اندر علمِ دین حاصل کرنے کا شعلہ کبھی ٹھنڈا نہیں ہوا۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ علومِ شرعیہ میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ علمِ حدیث، فقہ، تفسیر اور سیرتِ نبوی کے مطالعہ کے لیے آپ نے وقت کے جلیل القدر علماء کی بارگاہوں میں زانوئے تلمذ طے کیا۔

آپ کے اساتذہ اور روحانی رہنماؤں میں مفتیِ اعظم پاکستان، حضرت علامہ مفتی وقار الدین رضوی علیہ الرحمہ کا نامِ نامی سب سے نمایاں ہے۔ مولانا الیاس قادری نے طویل عرصے تک مفتی وقار الدین صاحب کی صحبت میں رہ کر نہ صرف فقیہانہ اور علمی بصيرت حاصل کی بلکہ تزکیۂ نفس اور روحانیت کے اعلیٰ منازل طے کیے۔ اس کے علاوہ آپ نے برصغیر کے دیگر اکابر علماء سے بھی علمی و روحانی استفادہ کیا اور بالخصوص اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی تصانیف کا گہرا مطالعہ کیا۔

علمی و عملی پختگی: مولانا الیاس قادری کی علمی زندگی محض کتابی حد تک محدود نہیں رہی، بلکہ آپ نے جو پڑھا، اس کو سب سے پہلے اپنی ذات پر نافذ کیا۔ آپ کی جوانی زہد و تقویٰ، روزوں کی کثرت، اور شب بیداری میں گزری، جس نے آگے چل کر آپ کی شخصیت میں ایک زبردست روحانی جاذبہ پیدا کر دیا۔

3. دعوتِ اسلامی کا قیام: ایک تاریخی موڑ (1981ء)

بیسویں صدی کے آخر میں کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں نوجوان نسل دینی احکامات سے دور ہوتی جا رہی تھی، مساجد ویران ہو رہی تھیں اور اخلاقی برائیاں عام تھیں۔ اس نازک اور پرفتن دور میں، مولانا الیاس قادری نے یہ محسوس کیا کہ امتِ مسلمہ کو جوڑنے اور نوجوانوں کو گناہوں کی دلدل سے نکالنے کے لیے ایک منظم اور غیر سیاسی دینی تحریک کی شدید ضرورت ہے۔

بالآخر ستمبر 1981ء (ذی القعدة 1401ھ) میں مولانا الیاس قادری نے اپنے چند مخلص ساتھیوں کے ساتھ مل کر کراچی کی ایک مسجد میں **”دعوتِ اسلامی”** کی بنیاد رکھی۔ یہ تحریک کسی سیاسی اقتدار، مالی مفاد یا فرقہ وارانہ منافرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کے احیاء کے لیے قائم کی گئی تھی۔

4. ابتدائی مشکلات اور امیرِ اہلسنت کا عزم

کسی بھی نئی تحریک کا آغاز آسان نہیں ہوتا۔ ابتداء میں دعوتِ اسلامی کے پاس نہ وسائل تھے اور نہ ہی ذرائع ابلاغ۔ مولانا الیاس قادری اور ان کے ساتھی پیدل یا سائیکلوں پر گلی گلی اور مسجد مسجد جا کر لوگوں کو نماز کی دعوت دیتے اور سنّتوں کے بیانات کرتے۔ آپ نے اپنے حسنِ اخلاق، عاجزی اور سچائی سے لوگوں کے دلوں کو فتح کیا۔ آپ اکثر خود نوجوانوں کے گھروں پر جاتے، ان کی منت سماجت کرتے اور انہیں مسجد لانے کی کوشش کرتے۔

5. دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول اور طریقہ کار

مولانا الیاس قادری نے اس تحریک کو منظم کرنے کے لیے ایک خاص اور دلکش انداز اختیار کیا جسے “مدنی ماحول” کا نام دیا گیا۔ اس ماحول کی چند بنیادی خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • سبز عمامہ کا استعمال: سنتِ نبوی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سبز عمامہ شریف کو تحریک کی علامت کے طور پر اپنایا گیا جس سے وابستگان میں سنت سے محبت کا جذبہ بیدار ہوا۔
  • مدنی قافلے: 3 دن، 12 دن، اور 100 دن کے مدنی قافلوں کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول شہر شہر جا کر سنتوں کی تعلیم اور فرائض کی پابندی کا پیغام دیتے ہیں۔
  • ہفتہ وار اجتماع: ہر جمعرات کی شام کو ذکر و اذکار، سنتوں بھرے بیانات اور رقت انگیز دعاؤں کا ہفتہ وار اجتماع منعقد کیا جانے لگا جو آج دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔
  • انفرادی کوشش: مولانا الیاس قادری نے ترغیب دی کہ ہر شخص دوسرے انسان سے ذاتی تعلق قائم کرے اور پیار و محبت سے اسے دین کی طرف لائے۔

6. عالمی پھیلاؤ اور موجودہ اثرات

جو تحریک 1981ء میں کراچی کے ایک چھوٹے سے کمرے یا مسجد سے شروع ہوئی تھی، وہ مولانا الیاس قادری کی مسلسل محنت، اخلاص اور شب و روز کی جدوجہد کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گئی۔ آج دعوتِ اسلامی دنیا کے تقریباً 180 سے زائد ممالک میں فعال طریقے سے کام کر رہی ہے۔

براعظم ایشیا، یورپ، امریکہ، افریقہ اور آسٹریلیا میں لاکھوں لوگ اس تحریک کے ذریعے اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس ہو چکے ہیں۔ انگریزی، عربی، ہسپانوی، اور فرانسیسی جیسی مختلف زبانوں میں بھی دعوتِ اسلامی کا کام کامیابی سے جاری ہے۔

مولانا الیاس قادری کی سوانح اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اگر نیت میں اخلاص ہو اور مقصد محض اللہ کی رضا ہو، تو ایک تنہا انسان بھی کروڑوں نفوس کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ آپ کا قائم کردہ یہ پودا آج ایک تناور درخت بن چکا ہے جس کا سایہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اخلاقی اور دینی تحفظ فراہم کر رہا ہے۔

Leave a Comment