google.com, pub-2216519951213863, DIRECT, f08c47fec0942fa0

قرآن اور جدید سائنس: چودہ سو سال پہلے بیان کیے گئے سائنسی حقائق

چودہ سو سال پہلے قرآن میں بیان کیے گئے حیرت انگیز سائنسی حقائق

Quran and Modern Science: Scientific Discoveries Foretold 1400 Years Ago

1. مقدمہ: قرآن، سائنس اور عقل کا باہمی رشتہ

انسان ہمیشہ سے اس کائنات کے پراسرار اور چھپے ہوئے رازوں کو سمجھنے کی جستجو میں رہا ہے۔ کہکشانوں کی بے پناہ وسعت، اربوں سال پرانے ستاروں کی چمک، زمین کا حیرت انگیز توازن، اور انسان کی اپنی پیچیدہ تخلیق نے ہمیشہ سے متجسس ذہنوں کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں جب سائنس اور ٹیکنالوجی نے سپر کمپیوٹرز، طاقتور دوربینوں (Telescopes) اور خلائی تحقیقات کی مدد سے کائنات کے انکشافات کیے، تو دنیا کے بڑے بڑے سائنسدان دنگ رہ گئے۔

سب سے بڑا تجسس اس بات کا ہے کہ جدید دور کی یہ تمام سائنسی سچائیاں جو آج بڑی لیبارٹریز میں ثابت ہو رہی ہیں، وہ آج سے ٹھیک 1400 سال پہلے عرب کے ریگستان میں نازل ہونے والی کتاب **قرآنِ کریم** میں بالکل واضح الفاظ میں بیان کر دی گئی تھیں۔

یہ حقیقت سمجھنا بہت ضروری ہے کہ قرآن سائنس کی کوئی روایتی درسی کتاب (Textbook) نہیں ہے، بلکہ یہ **”کتابِ آیات”** یعنی کائنات کی نشانیوں کی یاد دہانی کرانے والی کتاب ہے۔ سائنس کا نظریہ وقت، تحقیق اور تجربات کے ساتھ بدل سکتا ہے، لیکن قرآن کے بیان کردہ حقائق اٹل ہیں۔ جب جدید سائنس کسی حتمی نتیجے پر پہنچتی ہے، تو وہ قرآن کے معجزاتی بیان کے سامنے خاموش ہو جاتی ہے۔

2. تخلیقِ کائنات: بگ بینگ اور ابتدائی دھوئیں کی سچائی

بیسویں صدی کے وسط تک سائنسدانوں کا پختہ یقین تھا کہ یہ کائنات ہمیشہ سے ایسی ہی ہے اور اس کی کوئی ابتدا نہیں ہے۔ لیکن جدید ایسٹرو فزکس (Astrophysics) کی جدید ترین تحقیق نے ثابت کر دیا کہ اس کائنات کا ایک نقطہ آغاز تھا جسے آج دنیا **بگ بینگ تھوری (Big Bang Theory)** کے نام سے جانتی ہے۔

سائنسی تحقیقات کے مطابق، کائنات کا تمام مادہ پہلے ایک انتہائی کثیف، سکیڑے ہوئے اور جڑے ہوئے گنجان گولے کی شکل میں تھا جسے **Primary Nebula** کہا جاتا ہے۔ پھر ایک عظیم دھماکے کے نتیجے میں یہ مادہ جدا ہوا اور اس سے کہکشانیں، ستارے اور سیارے وجود میں آئے۔

“کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آسمان اور زمین دونوں باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کر دیا؟ اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے بنایا۔”

— سورة الأنبياء (آیت 30)

قرآنی لفظ “رَتْقًا” کا مطلب ہے آپس میں جڑے یا ملے ہونا، اور “فَفَتَقْنَاهُمَا” کا مطلب ہے انہیں پھاڑ کر یا دھماکے سے الگ کر دینا۔ یہ بعینہ وہی سائنسی عمل ہے جسے جدید فزکس (Big Bang) کہتی ہے۔

مزید برآں، سائنس بتاتی ہے کہ بگ بینگ کے فوری بعد کائنات کا مادہ کسی ٹھوس شکل میں نہیں بلکہ ایک گیس یا کثیف دھوئیں (Gaseous Nebula State) کی صورت میں تھا۔ قرآن نے اس بات کو یوں بیان کیا:

“پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جب کہ وہ صرف دھواں (Gas) تھا…”

— سورة فصلت (آیت 11)

3. پھیلتی ہوئی کائنات کا معجزہ (The Expanding Universe)

1929ء میں مشہور امریکی فلکیات دان **ایڈون ہبل (Edwin Hubble)** نے طاقتور دوربینوں کے ذریعے یہ انکشاف کر کے پوری سائنسی دنیا کو حیران کر دیا کہ دور دراز کی کہکشانیں ایک دوسرے سے تیزی سے دور جا رہی ہیں۔ اس کا براہِ راست مطلب یہ تھا کہ یہ کائنات جامد یا ساکت (Static) نہیں ہے، بلکہ یہ ہر لمحہ پھیل رہی ہے۔

اس سے پہلے دنیا کے مایہ ناز سائنسدان بھی کائنات کو فکس مانتے تھے۔ لیکن کائنات کے اس مسلسل پھیلاؤ (Expanding Universe) کو قرآن نے صدیوں پہلے ان الفاظ میں واضح کر دیا تھا:

“اور آسمان کو ہم نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا اور بے شک ہم اس کو وسعت دینے والے (پھیلانے والے) ہیں۔”

— سورة الذاريات (آیت 47)

عربی زبان کے لحاظ سے لفظ “لَمُوسِعُونَ” کا معنی مسلسل وسعت دینے والا یا پھیلانے والا ہے، جو اس سائنسی حقیقت کی بالکل درست عکاسی کرتا ہے۔

4. سورج اور چاند کی روشنی میں سائنسی فرق

قدیم ادوار میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ سورج اور چاند دونوں ایک جیسی روشن اشیاء ہیں۔ لیکن جدید علمِ فلکیات نے یہ حقیقت آشکار کی کہ سورج ایک روشن ستارہ ہے جس کی اپنی ذاتی حرارت اور روشنی (Self-luminous Star) ہے، جبکہ چاند کا اپنا کوئی نور نہیں بلکہ وہ سورج کی روشنی کو اپنے اوپر سے ریفلیکٹ (Reflect) کرتا ہے۔

قرآنِ کریم نے ان دونوں کے لیے کلمے استعمال کرتے وقت حیرت انگیز باریکی کا مظاہرہ کیا ہے:

“وہی ذات ہے جس نے سورج کو چمکتا ہوا (روشنی کا سرچشمہ) بنایا اور چاند کو نور (منعکس شدہ روشنی) بنایا…”

— سورة يونس (آیت 5)

قرآن میں سورج کے لیے **”ضِيَاءً”** یا **”سِرَاجًا”** (چراغ یا خود روشن منبع) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جبکہ چاند کے لیے **”نُورًا”** کا لفظ لایا گیا ہے جو مستعار یا دوسری جگہ سے لی گئی روشنی کے لیے بولا جاتا ہے۔

5. زمین کا گول ہونا اور اس کی محور پر گردش

ایک وہ دور تھا جب دنیا کے مختلف خطوں میں یہ توہمات عام تھے کہ زمین ایک چپٹی اور ہموار تختی کی طرح ہے اور اس کے کناروں پر جانے سے انسان خلا میں گر سکتا ہے۔ لیکن قرآنِ کریم نے اس زمانے میں زمین کی گولائی اور اس کے گھومنے کا نکتہ پیش کیا:

“وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے…”

— سورة الزمر (آیت 5)

یہاں استعمال ہونے والا عربی فعل “یُکَوِّرُ” لفظ **”کویر”** سے مشتق ہے، جس کا لغوی مطلب کسی گول چیز (جیسے عمامے یا گیند) کو گولائی میں لپیٹنا ہے۔ دن اور رات کا اس طرح دائرے کی شکل میں ایک دوسرے پر آنا صرف اسی وقت ممکن ہے جب زمین گول ہو اور اپنے محور پر گردش کر رہی ہو۔

6. جنینیات: رحمِ مادر میں انسانی ارتقاء کے مراحل

علمِ جنینیات (Embryology) کے حوالے سے قرآن کی تشریح دیکھ کر جدید میڈیکل سائنس کے ماہرین بھی دنگ رہ گئے۔ کینیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی کے نامور پروفیسر **ڈاکٹر کیتھ مور (Dr. Keith L. Moore)** نے قرآنی تعلیمات کا جائزہ لینے کے بعد کھل کر اعتراف کیا کہ ساتویں صدی میں اس درجے کی طبی تفصیلات کا علم ہونا قطعی طور پر انسانی بس کی بات نہیں تھی۔

قرآن نے رحمِ مادر میں بچے کی نشوونما کے جو سٹیجز بیان کیے ہیں، وہ جدید ایمبریولوجی کی مائیکروسکوپک دریافتوں سے سو فیصد مطابقت رکھتے ہیں۔

ارتقائی مراحل کی تفصیل (H4 Heading):

  • نُطْفَة: نطفہ یا قطرہ (Zygote / Drop)
  • عَلَقَة: جونک کی طرح چپکنے والا مادہ (Leech-like Clot)
  • مُضْغَة: چبایا ہوا گوشت کا ٹکڑا (Chewed-like Lump)
  • عِظَام اور لَحْم: ہڈیوں کی ساخت اور پھر ان پر گوشت کا غلاف چڑھنا (Bone Skeleton & Muscles)

“پھر ہم نے نطفہ کو علقہ بنایا، پھر علقہ کو مضغہ بنایا، پھر مضغہ سے ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا…”

— سورة المؤمنون (آیت 14)

7. سمندروں کی نظر نہ آنے والی دیوار (Oceanography)

جدید بحری ریسرچ (Oceanography) نے ثابت کیا ہے کہ دنیا کے وہ سمندر یا دریا جہاں دو مختلف اقسام کا پانی آپس میں ملتا ہے، وہاں ان کے درمیان ایک خفیہ سرفیس ٹینشن بیریئر (Invisible Barrier) ہوتا ہے۔

اس رکاوٹ کی وجہ سے دونوں طرف کے سمندروں کا کھارا پن، درجہ حرارت اور کثافت الگ رہتی ہے اور وہ آپس میں مکمل گھلتے نہیں۔ مشہور فرانسیسی ڈائیور **جیکس کوسٹو** نے جب اس کا معائنہ کیا تو وہ حیران رہ گیا۔

“اس نے دو سمندروں کو جاری کیا جو باہم ملتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان ایک حائل (پرادہ) ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھتے۔”

— سورة الرحمن (آیات 19-20)

8. پہاڑ بطورِ زمین کی میخیں (Geology)

ارضیات کی جدید تھیوری **Plate Tectonics** کے مطابق، زمین کی بالائی تہہ انتہائی نازک ہے اور یہ پگھلے ہوئے لاوے پر تیر رہی ہے۔ زلزلوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں پہاڑ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پہاڑوں کی جڑیں زمین کے اندر گہرائی تک گئی ہوتی ہیں جو لنگر (Anchoring System) کا کام کرتی ہیں۔

“کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا؟ اور پہاڑوں کو میخیں (کولیں) نہیں بنایا؟”

— سورة النبأ (آیات 6-7)

قرآن میں ان کے لیے “أَوْتَادًا” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، جس کا مطلب خیمے کی میخیں ہوتا ہے — بالکل ویسے ہی جیسے میخ زمین کے اندر اور باہر توازن قائم رکھتی ہے۔

9. لوہے کی خلائی آمد: ایک جدید دریافت

فلکیاتی فزکس بتاتی ہے کہ لوہا (Iron) ہمارے نظامِ شمسی کے اندر خود پیدا نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اس کے لیے درکار درجہ حرارت یہاں موجود نہیں۔ یہ عنصر بڑے ستاروں **Supernova** کے دھماکوں سے بن کر اربوں سال پہلے شہابِ ثاقب کے ذریعے زمین پر اترا۔

“اور ہم نے لوہا نازل کیا (اتارا) جس میں سخت جنگی ہیبت اور لوگوں کے لیے بہت سے فائدے ہیں۔”

— سورة الحديد (آیت 25)

قرآن نے اس کے لیے “أَنزَلْنَا” (ہم نے اتارا) کا لفظ برتا ہے، جو اس کی خلائی و ارضیاتی سچائی کو من و عن بیان کرتا ہے۔

10. پودوں میں نر اور مادہ کا نظام (Botany)

ماضی میں لوگ صرف حیوانات میں جنس کا فرق جانتے تھے، مگر بوٹنی (Botany) کی جدید تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ تمام نباتات اور درختوں میں بھی نر اور مادہ کا بائیولوجیکل نظام پایا جاتا ہے جو پودوں کی افزائشِ نسل کی بنیاد ہے۔

“پاک ہے وہ ذات جس نے تمام جوڑے پیدا کیے، اس چیز سے بھی جسے زمین اگاتی ہے اور خود ان کی اپنی جنس سے بھی…”

— سورة يس (آیت 36)

11. پانی کی حیاتیاتی اہمیت

جدید مائیکرو بائیولوجی بتاتی ہے کہ ہر جاندار خلیے (Cell) کا بنیادی مادّہ سائٹوپلازم (Cytoplasm) ہے، جو 85 سے 90 فیصد تک صرف پانی پر مشتمل ہے۔ پانی کے بغیر زمین پر حیات کا تصور محال ہے۔

“…اور ہم نے ہر زندہ چیز کی بنیاد پانی سے رکھی، کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے؟”

— سورة الأنبياء (آیت 30)

12. حاصلِ کلام: سائنس اور قرآن کی ہم آہنگی

یہ تمام شاندار حقائق اس بات کی غیر متزلزل دلیل ہیں کہ قرآنِ کریم کسی عام انسان یا اس دور کے محدود سائنسی علم کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔ اندھیروں کے اس دور میں اتنے کھرے سائنسی حقائق کا بیان ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کلام کائنات کے خالق کا ہے۔ جدید سائنس جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے، وہ قرآن کی سچائی پر مہر ثبت کر رہی ہے۔

Leave a Comment